برطانیہ میں ہیٹ ویو سے 2700 سے زائد افراد ہلاک ہوئے

پاکستان نیوز پوائنٹ
انگلینڈ اور ویلز میں مئی اور جون کے دوران ہیٹ ویو سے 2700 سے زائد افراد کی جانیں گئیںموسمیاتی تبدیلی نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ٹھنڈے کہلانے والے ملک برطانیہ اور یورپی ممالک میں بھی اس سال سورج نے ایسی آگ برسائی جس کی ہیٹ ویو سے ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے اور وہاں نظام زندگی درہم برہم ہو گیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق انگلینڈ میں جون تاریخ کا گرم ترین مہینہ رہا، جہاں درجہ حرارت 37.7 ڈگری تک جا پہنچا۔ جب کہ مئی میں بھی گرمی کا نیا ریکارڈ قائم ہوا، جہاں درجہ حرارت 35.1 ڈگری تک ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں مئی اور جون کی ہیٹ ویو سے 2700 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ ہیٹ ویو سے ہونے والی زیادہ تر ہلاکتیں جون کے مہینے میں ہوئیں۔ مئی میں ہیٹ ویو سے 550 جبکہ جون کے مہینے میں ریکارڈ 2200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
برطانیہ کی تاریخ کی شدید ترین گرمی کی لہر کے باعث انگلینڈ اور ویلز کے کئی حصوں میں ریڈ ہیٹ الرٹ جاری کیا گیا تھا۔اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی پریشر سسٹم یعنی ہیٹ ڈوم کے باعث گرم ہوا خطے میں محصور ہو کر رہ گئی، جس نے درجہ حرارت کا بڑھایا جب کہ انسانی سرگرمیوں کے باعث موسمیاتی تبدیلیوں نے ہیٹ ویو کی شدت میں مزید اضافہ کیا۔بی بی سی کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے زیادہ تر گھر شدید اور طویل گرمی کے موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچے، معمر افراد اور پہلے سے بیمار لوگ شدید گرمی کی لہر سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، کیونکہ ہیٹ ویو جسمانی نظام کو متاثر کرتی ہے، جس سے ہارٹ اٹیک اور اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *