پاکستان نیوز پوائنٹ
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششیں بظاہر تعطل کا شکار ہیں۔تہران میں غیر ملکی سفیروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران جنگ کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتا ہے۔ ان کے مطابق نئی پابندیاں عائد کرنا بھی تنازع کے حل کا راستہ نہیں ہوگا۔ایرانی وزیر خارجہ نے تاہم واضح کیا کہ اگر مخالفین دوبارہ فوجی محاذ آرائی کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو ایران کا ردعمل پہلے سے زیادہ سخت ہوگا اور ملک اپنے دفاع کے لیے مزید طاقت استعمال کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے اپنی شرائط واضح کردی ہیں اور اب فیصلہ امریکا کو کرنا ہے۔یہ بیان ایران اور امریکا کے درمیان ثالثوں کے ذریعے جاری بالواسطہ رابطوں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ گزشتہ دنوں قطر اور پاکستان سمیت بعض ممالک کے ذریعے دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوا، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے بھی اپنی شرائط امریکا کے سامنے رکھی ہیں۔ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی اتوار کو کہا تھا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک ایران کی جانب سے پیش کردہ سات شرائط پوری نہیں ہوتیں۔ ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران سفارتی حل کی بات کرتے ہوئے اپنی شرائط پر بھی قائم ہےدوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کسی ممکنہ معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات کو بھی حل کرنا ہوگا۔ یوں جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور جوہری پروگرام سمیت متعدد معاملات دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں اہم رکاوٹیں بنے ہوئے ہیں۔
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی رہائش گاہ…
پاکستان نیوز پوائنٹ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی…
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پی ٹی…
پاکستان نیوز پوائنٹ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات میں ڈیڈ لاک رات…
پاکستان نیوز پوائنٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایران کے بارے میں فیصلہ کرنے…
پاکستان نیوز پوائنٹ روس نے کہا ہے کہ وہ کیف اور یوکرین کے دیگر شہروں…