اردو نیوز اپڈیٹس

سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کا آغاز آج سے کر رہے ہیں ڈی جی پیمرا کا دعویٰ

پاکستان نیوز پوائنٹ
ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) عائشہ منظور وٹو نے دعویٰ کیا ہے کہ سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کا آغاز آج سے کر رہے ہیں۔ڈی جی پیمرا نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا اب الیکٹرانک میڈیا کی محض ایکسٹینشن نہیں رہا بلکہ یہ ایک الگ اور اہم شعبہ بن چکا ہے. جسے صرف میڈیا نہیں بلکہ لائٹ اکانومی کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے۔لاہور میں سوشل میڈیا کی ریگولیشن کے عنوان سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عائشہ وٹو نے کہا کہ آج ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل فون ہے اور ہر کوئی اپنی بات کر رہا ہے، پیمرا کی ذمہ داری صرف چیزوں کو بین کرنا یا نوٹس جاری کرنا نہیں. بلکہ اس کی ذمہ داریاں بہت وسیع ہیںواضح رہے کہ ڈی جی پیمرا کے اس اعلان کی عملی اور قانونی حیثیت ابھی واضح نہیں، کیونکہ موجودہ قانونی فریم ورک کے تحت پیمرا کا بنیادی مینڈیٹ نجی الیکٹرانک اور براڈکاسٹ میڈیا کی نگرانی اور ریگولیشن تک محدود ہے جبکہ سوشل میڈیا کے لیے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) کے تحت الگ قانونی فریم ورک موجود ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ پیمرا سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے کس قانونی اختیار یا طریقہ کار کے تحت اقدامات کرے گی جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے چند روز قبل ہی ایک سماعت میں پیمرا اور دیگر متعلقہ اداروں سے سوشل میڈیا کے ریگولیٹری دائرہ اختیار سے متعلق جواب طلب کیا تھا۔ڈی جی پیمرا کے مطابق پیمرا کے ہاتھ میں قوم کی تعمیر کی ذمہ داری بھی ہے جبکہ ادارے کا ایک اہم کام جھوٹی خبروں کی روک تھام ہے، انہوں نے کہا کہ پیمرا اپنا ریونیو خود اکٹھا کرتا ہے اور حکومت سے کوئی پیسہ نہیں لیتا۔عائشہ وٹو نے کہا کہ کسی بھی چینل کی مجموعی آمدن میں سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن اہم حیثیت اختیار کر چکی ہے، ان کے مطابق ڈیجیٹل میڈیا کو محض میڈیا کے طور پر نہیں بلکہ معیشت کے ایک شعبے کے طور پر بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے ڈیپ فیک کے استعمال سے جعلی فوٹیجز تیار کیں جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس معاملے کا بہادری سے دفاع کیا۔ اس موقع پر الیکٹرانک میڈیا نے بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ڈی جی پیمرا نے مزید کہا کہ اگر اس وقت سوشل میڈیا ریگولیٹ ہو چکا ہوتا تو مخالفین کے بیانیے کا مؤثر جواب دیا جا سکتا تھا. انہوں نے اعلان کیا کہ آج سے سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔پاکستان میں سوشل میڈیا کی ریگولیشن کا معاملہ کئی برس سے زیر بحث ہے، پیمرا بنیادی طور پر نجی الیکٹرانک میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قائم ہوئی تھی اور اس کا قانونی فریم ورک پیمرا آرڈیننس 2002، قواعد اور بعد کی ترامیم پر مشتمل ہے۔ پیمرا کے موجودہ قانونی ڈھانچے میں اس کے دائرہ اختیار کا بنیادی تعلق لائسنس یافتہ براڈکاسٹ اور ڈسٹری بیوشن سروسز سے ہے۔سوشل میڈیا کے حوالے سے صورتحال مختلف رہی ہے۔ ماضی میں پیمرا کی جانب سے ویب ٹی وی اور اوور دی ٹاپ (OTT) مواد کو ریگولیٹ کرنے کے لیے مشاورت بھی کی گئی، تاہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور انفرادی صارفین کو براہِ راست پیمرا کے لائسنسنگ نظام کے تحت لانے کا معاملہ قانونی اور دائرہ اختیار کے سوالات سے دوچار رہا۔نجی اخبار کے مطابق ماضی میں مختلف مواقع پر حکومت کی جانب سے تمام میڈیا بشمول ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کے لیے ایک مشترکہ ریگولیٹری فریم ورک بنانے کی تجاویز سامنے آتی رہی ہیں، 2018 میں پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی تجویز بھی سامنے آئی تھی۔ جس میں الیکٹرانک، پرنٹ اور سائبر میڈیا کو ایک ہی نظام کے تحت لانے کی بات کی گئیدوسری جانب عملی طور پر سوشل میڈیا سے متعلق معاملات میں مختلف اداروں کا کردار رہا ہے، جن میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA)، وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن اور سائبر کرائم سے متعلق ادارے شامل ہیں۔ جولائی 2026 میں پیمرا کے ایک ڈی جی نے بھی تسلیم کیا تھا کہ سوشل میڈیا شکایات کے لیے ایک واحد پلیٹ فارم موجود نہیں اور مختلف اختیارات مختلف اداروں کے پاس ہیں۔پیمرا کے دائرہ اختیار سے متعلق یہ فرق اس لیے بھی اہم ہے کہ پیمرا کا موجودہ شکایتی نظام ان پروگراموں اور مواد سے متعلق ہے جو پیمرا کے لائسنس یافتہ اداروں کے ذریعے نشر یا تقسیم کیے جاتے ہیں، پیمرا کی کونسل آف کمپلینٹس بھی اسی قانونی دائرہ کار کے تحت شکایات کا جائزہ لیتی ہے۔حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا پر غلط معلومات، ڈیپ فیک، بچوں کے آن لائن تحفظ اور نقصان دہ مواد کے باعث ریگولیشن کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔ 2026 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق درخواستوں پر پیمرا، پی ٹی اے اور متعلقہ وزارتوں سے جواب طلب کیا جبکہ ستمبر 2026 میں اسی نوعیت کا معاملہ وفاقی آئینی عدالت کے سامنے بھی پہنچا

Faisal Bukhari

Recent Posts

پاکستان معاشی استحکام کی جانب گامزن اصلاحات کا عمل آگے بڑھائیں گے وزیراعظم کی ایم ڈی آئی ایم ایف سے ملاقات

پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا…

36 minutes ago

مصنوعی ذہانت کو ہتھیاروں کی دوڑ کا ایک اور میدان بننے سے روکنا ہوگا وزیر خارجہ

پاکستان نیوز پوائنٹ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مصنوعی ذہانت اور عالمی سلامتی پر…

40 minutes ago

پاکستان نے حق دفاع استعمال کرتے ہوئے افغانستان میں 10 مقامات پر فضائی اور ڈرون حملے کیے وزیر اطلاعات عطا تارڑ

پاکستان نیوز پوائنٹ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے حق…

43 minutes ago

پاک فوج کی افغانستان میں 10 مقامات پر جوابی کارروائی دہشتگردوں کا انفرااسٹرکچر تباہ

پاکستان نیوز پوائنٹ پاک فوج نے افغانستان میں 10 مقامات پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے…

48 minutes ago

ایف بی آئی پر بڑا سائبر حملہ انٹیلی جنس اہلکاروں کا حساس ڈیٹا لیک

پاکستان نیوز پوائنٹ امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ملازمین کا حساس ڈیٹا مبینہ…

50 minutes ago

سعودی عرب کا حوثیوں کے 6 بیلسٹک میزائل مار گرانے کا دعویٰ

پاکستان نیوز پوائنٹ سعودی عرب نے جمعرات کو یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے…

55 minutes ago