پاکستان نیوز پوائنٹ
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فوجی حملوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 87 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیںرپورٹ کے مطابق جمعے کے روز مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے مزید پھیلنے اور عالمی توانائی کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات پر تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا۔امریکا کی جانب سے ایران پر نئے فوجی حملوں اور جواب میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک اور شام میں امریکی فوجی تنصیبات پر کیے گئے حملوں نے تاجروں کو محتاط کر دیا ہے۔اس کشیدگی سے آبنائے ہرمز کے راستے تیل اور گیس کی ترسیل خطرے میں پڑنے کا خدشہ ہے، جو عالمی خام تیل کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔
عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 3.68 فیصد اضافے کے ساتھ 87.33 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی، جو گزشتہ کئی ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 3.98 فیصد اچھال کے ساتھ 82.09 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔دیگر اقسام میں مربان خام تیل 80.77 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی مڈلینڈ 81.81 ڈالر پر بند ہوئے۔ توانائی مارکیٹ میں تیزی کا یہ رجحان گیس تک بھی پھیل گیا، جہاں امریکی گیسولین فیوچرز میں 3.86 فیصد، ڈچ نیچرل گیس میں 3.41 فیصد، امریکی نیچرل گیس میں 1.01 فیصد اور جاپان-کوریا ایل این جی بینچ مارک میں 0.92 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔تیل کی قیمتوں میں اس اچانک اضافے نے عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں ہلچل مچا دی اور سرمایہ کاروں نے حصص سے سرمایہ نکال کر محفوظ اثاثوں کا رخ کر لیا۔
