پاکستان نیوز پوائنٹ
گورنر خیبرپختونخوا نے وزیراعلیٰ کو مستعفی ہونے کا مشورہ دے دیا. لانگ مارچ پر تنقید اور 9 مئی جیسے اقدامات کی کوشش پر نتائج بھگتنے کی وارننگ دے دی۔گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ہماری ریڈ لائن ہے. اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا اور صوبے کو دہشتگردوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ خیبرپختونخوا کے عوام دہشتگردی کے خلاف لڑنے والوں کے ساتھ ہیں اور صوبے کے عوام کی حفاظت کرکے دکھائیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر 9 مئی جیسے اقدامات کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے پر نااہل لوگ مسلط ہیں جنہوں نے آئین تک نہیں پڑھا۔آئینی معاملات پر بات کرتے ہوئےاُن کا کہنا تھا کہ اجلاس جب بلانا ہوگا، ضرور بلاؤں گا، اس کے لیے آئین پڑھ لینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب چاہوں چیف سیکرٹری یا انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا کو بلا سکتا ہوں، جبکہ گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی۔لانگ مارچ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ لانگ مارچ لکی ایرانی سرکس کی طرح گھوم رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مارچ کے شرکا صوابی آنے سے گریز کرتے ہیں اور کہا کہ اگر ان میں ہمت ہے تو صوابی کراس کرکے دکھائیں، صوابی ان کے لیے پل صراط ہے اور جب ان کا رخ صوابی کی طرف ہوتا ہے تو وہ یوٹرن لے لیتے ہیں۔فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ گورنر ہاؤس کی حفاظت کرنا جانتے ہیں، انہوں نے ضم اضلاع میں پولیس نظام سے متعلق مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اب تک سات پولیس سٹیشن قائم نہیں کیے جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق کے بغیر صوبہ نہیں چل سکتا، لیکن صوبائی حکومت وفاق سے لڑ رہی ہے۔دہشتگردی کے معاملے پراُنہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے اہم رہنما چھپ کر بیٹھے ہیں اور انہوں نے دہشتگردی کے واقعات کی کبھی مذمت نہیں کی۔گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں، تاہم بعض لوگ ایسی باتیں کر رہے ہیں جو ملک دشمن عناصر کرتے ہیں، صوبے میں دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں اور اس معاملے میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جا سکتی۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پارلیمانی فورم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے بڑا کون سا فورم ہے؟ بلاول بھٹو نے انہیں یہ فورم دیا۔انہوں نے سیاسی مخالفین سے متعلق ایک سوالیہ انداز میں کہا کہ کس کا نام طالبان خان رکھا گیا تھا؟ جب کہ موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ٹنل کے دوسری طرف اندھیرا ہی نظر آ رہا ہے۔گورنر خیبر پختونخوا نے ایک بار پھر واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا. صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی…
پاکستان نیوز پوائنٹ افواجِ پاکستان کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے…
پاکستان نیوز پوائنٹ ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ سعودی عرب…
پاکستان نیوز پوائنٹ خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات…
پاکستان نیوز پوائنٹ امریکی صدر ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ امریکا 3…
پاکستان نیوز پوائنٹ ایران نے اپنے دشمن کو خبردار کیا ہے کہ طویل جنگ جاری…