اردو نیوز اپڈیٹس

نئی تحقیق کووڈ ویکسین لگوانے والوں کی حالت کو شدید نقصان پہنچنے کا انکشاف

پاکستان نیوز پوائنٹ
امریکا کی ییل یونیورسٹی نے ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ کووڈ-19 ویکسین بعض افراد میں ”پوسٹ ویکسی نیشن سنڈروم“ (PVS) کا سبب بن رہی ہے۔ اس سنڈروم کے حیاتیاتی عوامل کے بارے میں زیادہ معلومات موجود نہیں، تاہم تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس سے متاثرہ افراد میں ورزش کی عدم برداشت، شدید تھکن، سن ہونے کا احساس، ذہنی دھند، بے خوابی، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی، کانوں میں شور، چکر آنا، پٹھوں میں درد اور مدافعتی نظام میں تبدیلی جیسے علامات دیکھی گئی ہیں۔ یہ علامات ویکسین لگنے کے ایک یا دو دن کے اندر ظاہر ہوتی ہیں، وقت کے ساتھ مزید شدید ہو سکتی ہیں اور طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہیں۔عالمی وبا کے بعد سے دنیا بھر میں ہزاروں افراد نے دعویٰ کیا ہے کہ کووڈ ویکسین نے ان کی صحت کو طویل مدتی نقصان پہنچایا، حالانکہ یہ ویکسین لاکھوں جانیں بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوئی۔ تاہم، خاص طور پر پی وی ایس پر زیادہ تحقیق نہیں کی گئی، جسے ییل یونیورسٹی کی ماہرِ امیونولوجی، ڈاکٹر اکیوکو ایواساکی مزید تحقیق کے ذریعے واضح کرنا چاہتی ہیں۔ڈاکٹر ایواساکی کا کہنا ہے کہ ’پی وی ایس کے شکار افراد کو نظر انداز کیا گیا کیونکہ یہ کوئی طبی طور پر تسلیم شدہ حالت نہیں ہے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ، ’مجھے یقین ہے سائنسی تحقیق کی بدولت پی وی ایس کی بہتر تشخیص، علاج اور روک تھام ممکن ہو سکے گی، اور اس سے ویکسین کے حفاظتی پہلو بھی مزید واضح ہوں گے۔‘یہ تحقیق ییل یونیورسٹی کے ”لِسن ٹو امیون، سمپٹم، اینڈ ٹریٹمنٹ ایکسپیرینس ناؤ“ (LISTEN) مطالعے پر مبنی تھی، جس میں 42 ایسے شرکاء شامل تھے جنہوں نے پی وی ایس کی علامات کی اطلاع دی، جبکہ 22 افراد کو ایسی کوئی علامات نہیں تھیں۔جب ماہرین نے مدافعتی نظام کے عناصر کا تجزیہ کیا تو انہوں نے پایا کہ پی وی ایس کے شکار افراد میں بعض مدافعتی خلیات کی مقدار کنٹرول گروپ سے مختلف تھی۔ تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ پی وی ایس کے شکار افراد میں ایپسٹین-بار وائرس کی دوبارہ سرگرمی دیکھی گئی، جو کہ عام طور پر جسم میں غیر فعال رہتا ہے لیکن مونونوکلیوسس، ملٹی پل اسکلروسیس اور دیگر بیماریوں سے جُڑا ہوا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پی وی ایس کی وسعت کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، لیکن یہ مطالعہ اس سمت میں ایک اہم بنیاد رکھ سکتا ہے۔تحقیقی ٹیم کے مطابق، ’یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، اور ہمیں ان نتائج کی مزید تصدیق کرنی ہوگی۔ لیکن یہ امید کی ایک کرن ہے کہ ہم مستقبل میں پی وی ایس کی تشخیص اور علاج کے لیے کچھ دریافت کر سکیں گے۔‘ماہرین نے مزید کہا کہ اگر پی وی ایس اور اس کے عوامل کو گہرائی سے سمجھ لیا جائے تو ایسی ویکسین تیار کی جا سکتی ہیں جو کم مضر اثرات رکھتی ہوں، اس سنڈروم کی بہتر تشخیص ممکن ہو سکے، اور اس کے علاج کے مؤثر طریقے دریافت کیے جا سکیں۔

Faisal Bukhari

Recent Posts

قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے

پاکستان نیوز پوائنٹ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان…

2 hours ago

دفتر خارجہ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کو شرکت کی دعوت ملنے کی تصدیق کردی

پاکستان نیوز پوائنٹ دفتر خارجہ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کو…

2 hours ago

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد عناصر دراصل افغانستان اور بھارت کے ایجنٹ ہیں

پاکستان نیوز پوائنٹ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سرگرم دہشت…

2 hours ago

بندوق اٹھانے والوں سے بے رحمانہ طریقے سے نمٹنا چاہیے وزیراعلی بلوچستان

پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ جو بندوق کے زور…

2 hours ago

یو اے ای نے 2 ارب ڈالر کا قرض ایک ماہ کے لیے رول اوور کر دیا

پاکستان نیوز پوائنٹ متحدہ عرب امارات نے 2 ارب ڈالر کا قرض ایک ماہ کے…

2 hours ago

نیب کی 2025 میں 6213 ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری

پاکستان نیوز پوائنٹ نیب نے سال 2025 میں 6213 ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری کرلی۔بریفنگ…

3 hours ago