اردو نیوز اپڈیٹس

ٹرمپ سے دوستی یا ایران سے جنگ؟ امریکی جنرل دہری مشکل میں پھنس گئے

پاکستان نیوز پوائنٹ
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی تفصیلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈینیئل کین ایک مشکل توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں. جہاں ایک طرف وہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے منصوبے تیار کر رہے ہیں اور دوسری جانب صدر ٹرمپ کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریز بھی چاہتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق جنرل کین ایران پر ممکنہ حملے کے مختلف عسکری آپشنز تیار کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ آرمی، نیوی اور ایئر فورس کے اعلیٰ حکام کو روایتی پینٹاگون کانفرنس روم کے بجائے خفیہ طور پر اپنے دفتر بلا کر مشاورت کر رہے ہیں تاکہ معلومات کے افشا کا خطرہ کم رہے۔سی این این کے مطابق جنرل کین نے اندرونی اجلاسوں میں ایران کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کے ممکنہ نقصانات، پیچیدگیوں اور امریکی جانی نقصان کے خدشات پر واضح تشویش ظاہر کی ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کا مؤقف زیادہ جارحانہ ہے اور وہ ایران کے خلاف کارروائی کو نسبتاً آسان قرار دیتے رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنرل کین اپنے پیش رو مارک ملی کی طرح صدر سے کھلے اختلاف سے بچنا چاہتے ہیں۔ ملی نے اپنے دور میں ٹرمپ سے کئی معاملات پر اختلاف کیا تھا، جبکہ کین زیادہ محتاط انداز اپنائے ہوئے ہیں اور براہِ راست رائے دینے سے گریز کرتے ہیں، اگرچہ وہ پیشہ ورانہ فوجی مشورے فراہم کرتے رہتے ہیں۔گزشتہ ایک ماہ کے دوران جنرل کین نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی عسکری سازوسامان کی بڑی تعداد جمع کرنے کی نگرانی بھی کی، جو عراق پر حملے کے بعد سب سے بڑی تعیناتی قرار دی جا رہی ہے۔صدر ٹرمپ نے انہیں ایران کے بیلسٹک میزائل اور جوہری تنصیبات پر حملوں سے لے کر ایرانی قیادت کو ہدف بنانے تک مختلف منصوبے تیار کرنے کی ہدایت دی ہے، جبکہ سفارتی مذاکرات بھی متوازی طور پر جاری ہیں۔وائٹ ہاؤس اور جوائنٹ اسٹاف کے ترجمانوں نے واضح کیا ہے کہ جنرل کین ذاتی یا سیاسی رائے نہیں دیتے بلکہ صدر، وزیرِ دفاع اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کو تمام ممکنہ عسکری آپشنز اور ان کے خطرات سے آگاہ کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق جنرل کین صدر ٹرمپ کے قریبی اور بااعتماد حلقے میں شمار ہوتے ہیں، جس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف سوزی وائلز شامل ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق حساس آپریشنل معاملات میں ان پر وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ سے بھی زیادہ اعتماد کیا جاتا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جنرل کین نے فوج کو سیاسی معاملات سے دور رکھنے کے لیے بعض مواقع پر اعلیٰ افسران کو ہدایت کی کہ وہ سیاسی نوعیت کی تقاریر کے دوران غیر جانبدار رہیں۔ اس کے باوجود وہ ایران اور وینزویلا سمیت مختلف بیرونی و داخلی آپریشنز کے لیے صدر کو قانونی و عسکری آپشنز فراہم کرتے رہے ہیں۔دفاعی حکام کے مطابق جنرل کین ایک محتاط، کم گو اور پیشہ ور فوجی رہنما کے طور پر کام کر رہے ہیں جو صدر کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے فوجی ادارے پر اعتماد بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ان کا محتاط طرزِ عمل انہیں بعض اہم معاملات پر غیر واضح بنا دیتا ہے۔

Faisal Bukhari

Recent Posts

ملک کی معیشت استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے وزیراعظم

پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے موڈیز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ…

9 hours ago

فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات

پاکستان نیوز پوائنٹ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اہم دورے پر ایران…

9 hours ago

پاکستان کی معاشی پوزیشن بہتر موڈیز نے کریڈٹ ریٹنگ بڑھا دی

پاکستان نیوز پوائنٹ عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی خود مختار کریڈٹ ریٹنگ سی…

9 hours ago

پشاور ہائیکورٹ نے بجلی کے بل میں ٹیکسز کی وصولی کو معطل کر دیا

پاکستان نیوز پوائنٹ عدالت نے بجلی کے بل میں بغیر تفصیل کے ٹیکسز کی وصولی…

9 hours ago

ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے

پاکستان نیوز پوائنٹ ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ…

9 hours ago

برطانوی وزیرِاعظم آج یوکرین پہنچیں گے روس نے لندن سے سفیر واپس بلا لیا

پاکستان نیوز پوائنٹ برطانیہ کے وزیر اعظم اینڈی برنہم عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے…

9 hours ago