اردو نیوز اپڈیٹس

پی ٹی آئی نے ضد اور انا کو ترجیح دے کر اپنی آخری پناہ گاہ اور حکومت بھی گنوا دی احسن اقبال

پاکستان نیوز پوائنٹ
وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے گورنر راج اور ایمرجنسی اصولی طور پر پسندیدہ اقدامات نہیں تاہم جمہوری نظام میں ان کا استعمال آخری چارۂ کار ہوتا ہے۔ 1973 کا آئین ناگزیر حالات میں ان کی اجازت دیتا ہے اور ان اقدامات کے جواز کو پرکھنے کے لئے پارلیمانی اور عدالتی کسوٹی بھی فراہم کرتا ہے لہذا انہیں غیر آئینی قرار دینا قطعا درست نہیں۔اپنےایکس باین میں انہوں نے کہا خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی صوبے ہی نہیں، پورے پاکستان کی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج بن چکی تھی۔ صوبائی حکومت کی اولین ذمہ داری عوام کے جان و مال کا تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف ریاستی کوششوں کو مضبوط کرنا ہے۔ لیکن دہشت گردی کیخلاف جنگ سے آنکھیں چرانا اور ایسے حالات میں صوبائی وسائل اور انتظامی توجہ کو دارالحکومت کی جانب سیاسی چڑھائی پر مرکوز کرنا اس ذمہ داری سے انحراف ہے۔ جب سکیورٹی اداروں کی توجہ دہشت گردوں کے مقابلے سے ہٹ کر سیاسی محاذ آرائی کی طرف جائے، تو فائدہ امن کے دشمنوں کو پہنچتا ہے۔ لانگ مارچ دہشت گردوں کو محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کا ذریعہ بن چکی تھی اور پی ٹی آئی کی قیادت عوام میں ریاستی اداروں اور ریاست پاکستان کیخلاف بیان بازیاں کر رہے تھے جبکہ ہمارے سیکورٹی اداروں کے افسر اور جوان دہشتگردی کیخلاف اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔اور جب پاکستان عالمی سطح پر اپنی ساکھ مستحکم کرنے اور سفارتی کامیابیوں کو معاشی مواقع میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہو، تب دارالحکومت میں تصادم اور انتشار کے مناظر پیدا کرنا کس قومی مفاد کی خدمت ہے؟ احتجاج جمہوری حق ہے، لیکن اس حق کے ساتھ قانون کی پابندی، شہریوں کے حقوق کا احترام اور امن برقرار رکھنے کی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ کیا پاکستان ہر چند ماہ بعد ایسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا جو کاروبار، روزگار، سرمایہ کاری اور معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر دے؟احسن اقبال نے مزید کہا حکومت نے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر پی ٹی آئی کے اندر انتہاپسند عناصر نے ان کوششوں کو ناکام بنایا۔ سیاسی قیادت کی اہلیت کا امتحان یہ ہے کہ وہ اختلاف کے باوجود راستہ نکالے۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے پہلے بھی تحریک عدم اعتماد کے بعد قومی اسمبلی سے استعفوں اور پنجاب میں اپنے ہاتھوں اپنی ہی حکومت ختم کرنے جیسے نادانشمندانہ فیصلوں سے اپنے سیاسی مواقع خود محدود کیے۔ اب ایک بار پھر سیاسی تدبر پر ضد اور انا کو ترجیح دیکر اپنی آخری پناہگاہ اور حکومت بھی گنوا دی۔ تھینک یو پی ٹی آئی!آج آئین کی دہائی دینے والوں کو اپریل ۲۰۲۲ بھی یاد رکھنا چاہیے۔ آئین کے آرٹیکل ۹۵ کے تحت پیش ہونے والی تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کے بجائے ڈپٹی اسپیکر نے اسے مسترد کر دیا۔ اس کے بعد عمران خان نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ دیا اور صدر عارف علوی نے اسمبلی تحلیل کر دی، حالانکہ آرٹیکل ۵۸ کے تحت تحریکِ عدم اعتماد کے نوٹس کی موجودگی میں وزیراعظم کو ایسا مشورہ دینے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ، وزیراعظم کے مشورے اور اسمبلی کی تحلیل کو خلافِ آئین قرار دے کر قومی اسمبلی بحال کی۔پنجاب کے منتخب بلدیاتی اداروں کی تحلیل اور ان کی بحالی کے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد میں تاخیر بھی اسی طرزِ حکمرانی کی یاد دلاتی ہے۔ عوامی مینڈیٹ کا احترام صرف اپنی حکومت کے لیے نہیں، ہر سطح کے منتخب اداروں کے لیے ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا آئین کی پاسداری کا دعویٰ تب معتبر بنتا ہے جب اقتدار میں بھی اسی آئین کی پابندی کی جائے جس کا حوالہ اپوزیشن میں دیا جاتا ہے۔ آئین کوئی وقتی سیاسی سہارا نہیں یہ حکومت اور اپوزیشن، دونوں کے لیے مستقل عہد ہے۔ پاکستان کو ایسی سیاست درکار ہے جو اختلاف کو دلیل، مذاکرات اور آئینی عمل سے آگے بڑھائے، اور عوام کو بار بار تصادم، بے یقینی اور انتشار کی قیمت ادا کرنے پر مجبور نہ کرے۔

Faisal Bukhari

Recent Posts

وزیراعظم کا میجر حسنین شہزاداورکیپٹن عبدالصمد کی شہادت پر دکھ کااظہار

پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم شہباز شریف نے میجر حسنین شہزاداورکیپٹن عبدالصمد کی شہادت پر دکھ…

1 hour ago

کوئٹہ پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ گرکر تباہ دونوں پائلٹ شہید

پاکستان نیوز پوائنٹ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق…

1 hour ago

ترقیاتی منصوبوں کی قربانی دے سکتے ہیں سکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا گورنر کے پی

پاکستان نیوز پوائنٹ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت…

1 hour ago

پشاور میں دفعہ 144 نافذ کسی بھی قسم کے احتجاج پر پابندی عائد

پاکستان نیوز پوائنٹ ڈپٹی کمشنر نے پشاور میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے کسی بھی…

1 hour ago

عالمی و مقامی سطح پر سونے چاندی کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی

پاکستان نیوز پوائنٹ آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط فی تولہ سونا…

1 hour ago

ٹرمپ نے بحر الکاہل اور بحر اوقیانوس میں سے کسی ایک کا نام تبدیل کرکے بحر ٹرمپ رکھنے کی تجویز دے دی

پاکستان نیوز پوائنٹ امریکی صدر ٹرمپ نے بحر الکاہل یا بحر اقیانوس میں سے کسی…

1 hour ago