پاکستان نیوز پوائنٹ
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنان کے صدر جوزف عون کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں لبنان ایران کا ’سودے بازی کا کارڈ‘ ہوتا تو تہران کافی پہلے واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کر سکتا تھا۔لبنان کے صدر جوزف عون نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران اور اس کی اتحادی حزب اللہ لبنان کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ’سودے بازی کے ایک آلے‘ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔انھوں نے کہا تھا کہ ’ایران کے مفادات کی قیمت لبنان کے عوام چکا رہے ہیں اور اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ سے تھک چکے ہیں۔جوزف عون نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان کے ملک میں مداخلت نہ کرے اور حزب اللہ سے بھی کہا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ تنازع کا واحد حل سفارت کاری ہے۔لبنان کے صدر نے اس گفتگو میں ایران کے پاسداران انقلاب سے مخاطب ہو کر کہا تھا: ’یہ آپ کا نہیں، ہمارا ملک ہے۔ آپ کا کام نہیں کہ ہمارے ملک میں مداخلت کریں۔لبنانی صدر کے اس انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’جوزف عون کے بیانات کے مطابق، بظاہر یہ ایران ہے جس نے لبنان کے پانچویں حصے پر قبضہ کیا، ایک چوتھائی لبنانیوں کو بے گھر کیا اور ان کے ملک پر روزانہ بمباری کرتا ہے۔ جناب صدر، لبنان کو اس کے حقیقی دشمن سے نجات دلائیں۔‘
