اردو نیوز اپڈیٹس

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف کی جیل ملاقاتوں سے متعلق فیصلہ ملاقات کی اجازت میڈیا ٹاک پر پابندی

پاکستان نیوز پوائنٹ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی جیل میں ملاقاتوں کے حوالے سے درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ہفتے میں دو دن منگل اور جمعرات کو ملاقات کی اجازت دے دی تاہم عدالت نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ عمران خان کے کوآرڈینیٹر سلمان اکرم راجہ جو نام دیں گے، صرف وہی افراد ملاقات کے اہل ہوں گےہائی کورٹ میں جیل ملاقاتوں سے متعلق درخواستوں پر لارجر بینچ نے سماعت کی جس میں قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس محمد اعظم شامل تھے دوران سماعت عدالت نے کہا کہ جو بھی بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کرے گا وہ ملاقات کے بعد کسی بھی قسم کی میڈیا ٹاک نہیں کرے گا تاکہ جیل میں ہونے والی بات چیت کو عوامی سطح پر نہ لایا جائے عدالت نے مزید ہدایت کی کہ اگر عمران خان کی اپنے بچوں سے ملاقات کروانی ہے تو اس کے لیے متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کیا جائے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بانی پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم اور ان کے قریبی ساتھی مسلسل جیل میں ملاقاتوں پر عائد پابندی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور عدالت سے رجوع کیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد اب عمران خان کے وکلاء اور قریبی ساتھی ہفتے میں دو روز ان سے ملاقات کر سکیں گے تاہم میڈیا سے گفتگو پر عائد پابندی کے باعث ملاقاتوں کی تفصیلات عوامی سطح پر شیئر نہیں کی جا سکیں گی قانونی ماہرین کے مطابق اس عدالتی فیصلے سے ایک طرف جہاں عمران خان کے حامیوں کو ان سے ملاقات کا موقع ملے گا وہیں دوسری جانب میڈیا پر جیل میں ہونے والی گفتگو کے افشا ہونے کو روکا جا سکے گا۔ اس سے قبل تحریک انصاف کے کئی رہنما جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا کے سامنے ان کے بیانات اور حکمت عملی پر تبصرہ کرتے رہے ہیں جس کی وجہ سے حکومت اور عدالتی حلقوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد قانونی ٹیم اور پارٹی رہنماؤں کو اب منگل اور جمعرات کو ملاقات کی سہولت میسر ہوگی لیکن اس کے باوجود پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں کی جانب سے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے ان کا مؤقف ہے کہ عمران خان کو ہفتے میں دو دن سے زیادہ ملاقاتوں کی اجازت دی جانی چاہیے تھی دوسری جانب حکومتی حلقے اس عدالتی فیصلے کو قانون کی عملداری کے لیے مثبت قدم قرار دے رہے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے جیل کے اندر اور باہر کی صورتحال پر بھی اثر پڑے گا کیونکہ عمران خان کی ملاقاتوں کے بعد ان کے بیانات اور سیاسی حکمت عملی اکثر خبروں میں جگہ بنا لیتے تھے لیکن اب میڈیا ٹاک پر پابندی کے باعث یہ سلسلہ رُک سکتا ہے

Faisal Bukhari

Recent Posts

وزیرِ اعظم نے ائیرپورٹس پر بین الاقوامی معیار کو مد نظر رکھ کر سہولیات مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی

پاکستان نیوز پوائنٹ پاکستانی ایئرپورٹس پر مسافروں کی سہولت اولین ترجیح بنائی جائے، وزیرِ اعظم…

17 hours ago

وزیرِاطلاعات عطا تارڑ کا نیشنل سائبر سکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل قائم کرنے کا اعلان

پاکستان نیوز پوائنٹ وزیرِاطلاعات عطا تارڑ نے نیشنل سائبرسکیورٹی اورسوشل میڈیا آگاہی کونسل قائم کرنے…

17 hours ago

ہم موجودہ بحران کو سنبھالنے کیلئے ایران گئےتھے مولانا فضل الرحمان نے کل ہاوس کو مس کوٹ کیا محسن نقوی

پاکستان نیوز پوائنٹ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان…

17 hours ago

خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال فیلڈ مارشل کی سفارتی کوششوں کی تفصیلات بیان کر دیں

پاکستان نیوز پوائنٹ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل تہران…

17 hours ago

لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ کمسن بچوں کا ماہانہ خرچہ 20 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے فی بچہ مقرر کرنے کا حکم

پاکستان نیوز پوائنٹ لاہور ہائیکورٹ نے کمسن بچوں کا ماہانہ خرچہ 20 ہزار سے بڑھا…

17 hours ago

روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط

پاکستان نیوز پوائنٹ روسی جوہری توانائی کمپنی روساٹوم نے ایران میں 8 جوہری پاور یونٹس…

17 hours ago