پاکستان نیوز پوائنٹ
امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص کی فروخت کے باعث شدید مندی ریکارڈ کی گئی.جس کے نتیجے میں نیسڈیک 100 انڈیکس کی مجموعی مالیت میں 2.5 ٹریلین ڈالر کی کمی ہوگئی۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نیسڈیک کمپوزٹ انڈیکس میں 5.5 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی، جو اپریل 2025 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ ’لبریشن ڈے‘ کے بعد ایک دن میں ہونے والی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔اس کمی کے بعد انڈیکس 6 اکتوبر کو ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطح سے تقریباً 12 فیصد نیچے آگیا اور مارکیٹ باضابطہ طور پر ’کریکشن زون‘ میں داخل ہوگئی۔ مارکیٹ میں حالیہ بلند ترین سطح سے 10 فیصد کمی کو کریکشن کہا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابی کے بعد سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور اے آئی انفرااسٹرکچر کی توسیع متاثر ہوسکتی ہے۔ اس خدشے کے باعث مسلسل دوسرے روز اے آئی سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں فروخت کا رجحان برقرار رہا۔چِپ ساز کمپنیوں اور ڈیٹا سینٹرز کو کمپیوٹنگ کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنیوں کے حصص میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی۔ فلاڈیلفیا ایس ای سیمی کنڈکٹر انڈیکس 12 فیصد گر کر چھ ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آگیا۔ اینویڈیا کے حصص 9 فیصد جبکہ ایڈوانسڈ مائیکرو ڈیوائسز (اے ایم ڈی) کے حصص 17 فیصد گرگئے۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے بعد وال اسٹریٹ میں شدید مندی کا ذمہ دار ڈیموکریٹس کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی نتائج کے باعث اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کے بدترین دنوں میں سے ایک دیکھنا پڑا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مارکیٹ میں گراوٹ سے امریکی شہریوں کی ریٹائرمنٹ کے لیے جمع کی گئی بچت بھی متاثر ہوئی ہے۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر متعدد پیغامات میں مارکیٹ کی صورت حال پر مایوسی کا اظہار کیا۔ ایک پیغام میں انہوں نے لکھا کہ اسٹاک مارکیٹ آج اس لیے کریش ہوئی کیونکہ ڈیموکریٹس نے منگل کو بڑی کامیابی حاصل کی، یہ دیکھ کر افسوس ہوا، اس کے ذمہ دار بھی وہ خود ہیں۔ایمیزون اور الفابیٹ کے حصص کی قیمتوں میں 2.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ بڑی کمپنیوں پر مشتمل نیسڈیک 100 انڈیکس 6.4 فیصد گرگیا، جس سے اس کی مجموعی مارکیٹ مالیت میں ڈھائی ٹریلین ڈالر کی کمی ہوئی۔مارکیٹ میں اس گراوٹ کی ایک بڑی وجہ ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے خلاف ممکنہ مقامی مخالفت کو قرار دیا جارہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان مراکز کی تعمیر سے بجلی کے نظام اور پانی کے وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جس کے باعث مختلف علاقوں میں ان منصوبوں کی منظوری مشکل ہوسکتی ہے۔سوئس بینک یو بی ایس کے تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ 2028 تک امریکا میں ڈیٹا سینٹرز کی جتنی نئی گنجائش متوقع ہے، اس کا تقریباً 30 فیصد تعمیراتی کام روکنے کے ممکنہ فیصلوں سے متاثر ہوسکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی میں بھاری سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اس شعبے میں اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود متوقع مالی فوائد حاصل نہ ہوئے تو کمپنیوں کی قدر اور سرمایہ کاری کے فیصلے متاثر ہوسکتے ہیں۔مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی توقعات ظاہر کرنے والے امریکی انڈیکس وی آئی ایکس میں بھی دسمبر 2024 کے بعد سب سے بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستان نیوز پوائنٹ عراق نے واضح کیا ہے کہ اس کی سرزمین کو پڑوسی ممالک…
پاکستان نیوز پوائنٹ سعودی عرب نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کی…
پاکستان نیوز پوائنٹ افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کے ناقابل تردید شواہد سامنے آگئے.اپر کُرم…
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پرائم منسٹر فیول ریلیف پروگرام…
پاکستان نیوز پوائنٹ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ہیڈکوارٹرز اسپیشل سروسز گروپ ( ایس…
پاکستان نیوز پوائنٹ چئیرمین سینٹ سید یوسف ریضا گیلانی کا دورہ لاہور چیمبر کےصدر علی…