اردو نیوز اپڈیٹس

ایرانی وزیر خارجہ کی عمانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ تہران خطےمیں تناو کم کرنے کے لئےتیار

پاکستان نیوز پوائنٹ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ تہران خطے میں تناؤ کم کرنے کے لیے کی جانے والی ہر کوشش کے لیے تیار ہے۔ عمان کی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عباس عراقچی نے اپنے ملک کا امن کے لیے موقف پیش کیا اور کہا کہ ان کے ملک پر اسرائیلی اور امریکی حملے نے خطے میں تناؤ اور خوف کو بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایرانی فریق کسی بھی ایسی سنجیدہ کوشش کا خیرمقدم کرتا ہے جو کشیدگی کے خاتمے اور استحکام کی واپسی میں مددگار ہو۔ بیان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے ایران کا امن پسند موقف منتقل کیا اور کہا کہ ان کے ملک پر اسرائیل اور امریکہ کا حملہ خطے میں ہیجان اور خوف کی صورتحال سنگین ہونے کا سبب بنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کشیدگی روکنے اور استحکام کی طرف واپسی کے لیے ہر سنجیدہ کوشش کے لیے کھلا ہے۔ واضح رہے سلطنتِ عمان امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ اس تناظر میں عمانی وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ گفتگو کے دوران جنگ بندی کی اپیل کی۔ عمان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ البوسعیدی نے جاری تنازع کو سفارتی طریقے سے حل کرنے اور فریقین کے جائز مطالبات کو پورا کرنے کے لیے جنگ بندی، مکالمے اور مذاکرات کی طرف واپسی کی دعوت جاری رکھنے کے عمانی عزم کی تصدیق کی۔ البوسعیدی نے ایرانی فریق سے صبر و تحمل سے کام لینے اور ہر ایسے اقدام سے بچنے کی اپیل کی جو حسنِ جوار کے تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب تہران، ایران پر ہونے والے اس امریکی اور اسرائیلی حملے کے جواب میں خلیجی ممالک پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملے کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور دیگر حکام جاں بحق ہوگئے تھے۔ ایک اور تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ نے اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کو امریکہ اور اسرائیل کے شدید حملوں کا جواب دینے سے باز رہنے کی تنبیہ کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کے ملک کے دفاع کے حق کی کوئی حد نہیں ہے۔ عباس عراقچی نے ’’ اے بی سی نیوز ‘‘ کو بتایا کہ ہمارے دفاع کے حق سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ ہم ہر قیمت پر اپنا دفاع کریں گے اور اپنے عوام کی حفاظت کے لیے دفاع کی کوئی حد مقرر نہیں کرتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو امریکہ کر رہا ہے وہ جارحیت ہے اور جو ہم کر رہے ہیں وہ دفاعِ خود اختیاری ہے۔ ان دونوں چیزوں میں بہت بڑا فرق ہے۔

Faisal Bukhari

Recent Posts

سعودی عرب پاکستان اور ترکیہ میں دفاعی معاہدہ ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا

پاکستان نیوز پوائنٹ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کردیے…

19 hours ago

وزیراعظم فیلڈ مارشل کا دورہ سعودی عرب وفد کےہمراہ عمرہ اداکیا

پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد…

19 hours ago

سندھ اسمبلی کئی قراردادیں منظور کرچکی مزید صوبے نہیں بن سکتے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ

پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نےکہا کہ سندھ کو مزید صوبوں میں…

19 hours ago

جسٹس مسرت ہلالی کی ریٹائرمنٹ پر سپریم کورٹ میں فل کورٹ ریفرنس

پاکستان نیوز پوائنٹ سپریم کورٹ کی جج جسٹس مسرت ہلالی ریٹائر ہو گئیں،ان کے اعزاز…

19 hours ago

بینکاک دادا اور دادی کو قتل کرنے کے بعد ملزم کی اسکول میں فائرنگ 8 افراد ہلاک 14 زخمی

پاکستان نیوز پوائنٹ تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک کے ایک اسکول میں فائرنگ کے نتیجے…

19 hours ago

یمنی حوثیوں کا سعودی عرب کے علاقے نجران پر حملہ پاکستانی سمیت 11 شہری زخمی

پاکستان نیوز پوائنٹ یمن میں سرگرم حوثی ملیشیا نے ایک بار پھر سعودی عرب کے…

19 hours ago