پاکستان نیوز پوائنٹ
سپریم کورٹ نے خلع اور گھریلو تنازعات سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بیوی کی واضح رضامندی کے بغیر خلع نہیں دی جا سکتی۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کے مطابق خلع کے لیے بیوی کی غیر مبہم اور واضح رضا مندی لازمی ہے، جبکہ ظلم کی بنیاد پر دائر کیس کو خلع میں تبدیل کرنا قانونی طور پر درست نہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ گھریلو تشدد میں صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی اذیت، تذلیل، جذباتی دباؤ اور نظرانداز کرنا بھی شامل ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ فیملی مقدمات میں ثبوت کا معیار “غالب امکان” ہوگا۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اگر شادی عملاً ختم ہو چکی ہو تو بیوی کو حق حاصل ہے کہ وہ یا تو خلع قبول کرے یا ظلم کے دعوے کو آگے بڑھائے، عدالتیں زبردستی رشتہ بحال نہیں کرا سکتیں۔عدالت نے موجودہ کیس میں قرار دیا کہ بیوی ظلم ثابت کرنے میں ناکام رہی، تاہم شادی ابتدائی مرحلے میں ہی ختم ہو چکی تھی۔سپریم کورٹ نے ماتحت عدالت کا خلع کا فیصلہ جزوی طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس خلع کے طریقہ کار اور مالی حقوق کے تعین کے لیے فیملی کورٹ کو واپس بھیج دیا۔ فیملی کورٹ کو 30 دن میں فیصلہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔واضح رہے کہ یہ کیس سوات کی رہائشی سیلاب اختر کی جانب سے اپنے شوہر قوت خان کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی…
پاکستان نیوز پوائنٹ ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ امریکا کے…
پاکستان نیوز پوائنٹ پاکستان اور روس کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ…
پاکستان نیوز پوائنٹ پاکستان اور برطانیہ نے انسدادِ دہشت گردی، انسدادِ منشیات، سائبر کرائم، غیر…
پاکستان نیوز پوائنٹ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور امریکی صدر…
پاکستان نیوز پوائنٹ عراق نے واضح کیا ہے کہ اس کی سرزمین کو پڑوسی ممالک…