اردو نیوز اپڈیٹس

غزہ اسرائیل نے 2 سال بعد رفح بارڈر کھول دیا محدود آمد و رفت کی اجازت

پاکستان نیوز پوائنٹ
اسرائیل نے انسانی حقوق کی تنظیموں کے دباؤ کے بعد اتوار کے روز غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح بارڈر کراسنگ کو دو سال بعد جزوی طور پر دوبارہ کھول دیا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے اتوار کے روز رفح کراسنگ کو کھول دیا ہے. تاہم اس راستے سے صرف غزہ کے شہریوں کی محدود آمد و رفت کی اجازت دی گئی ہے جبکہ امدادی سامان کی ترسیل پر پابندیاں بدستور برقرار ہیں اور صرف محدود مقدار میں سامان داخل ہونے دیا جا رہا ہے۔اسرائیلی وزارتِ دفاع کے فلسطین خصوصاً غزہ سے متعلق امور کی نگرانی کے لیے قائم ذیلی ادارے کوگیٹ نے اتوار کو اعلان کیا کہ رفح کراسنگ کو آج صرف شہریوں کی محدود نقل و حرکت کے لیے کھولا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق حماس کے زیرانتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق تقریباً 20 ہزار مریض جانے کے منتظر ہیں جنہیں فوری علاج کی ضرورت ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک فلسطینی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی سے وابستہ تقریباً 40 افراد مصر کی جانب رفح کراسنگ پر پہنچ چکے ہیں، جو غزہ میں داخل ہو کر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔واضح رہے کہ رفح کراسنگ غزہ کے شہریوں کی آمد و رفت اور امدادی سامان پہنچانے کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ مئی 2024 میں حماس کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیل نے اس راستے کو بند کردیا تھا۔اسرائیل نے غزہ جنگ معاہدے سے منہ پھیرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ جب تک غزہ میں قید آخری اسرائیلی یرغمالی کی لاش واپس نہیں کی جاتی، رفح کراسنگ نہیں کھولی جائے گی۔ چند روز باقیات کی حوالگی کے بعد اسرائیل نے رفح کراسنگ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔کوگیٹ کے مطابق شہریوں کی آمد و رفت مصر کے ساتھ رابطے، اسرائیل کی جانب سے سکیورٹی کلیئرنس اور یورپی یونین مشن کی نگرانی میں ہوگی۔ اسرائیل نے اس عمل کو ابتدائی آزمائشی مرحلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے تیاریوں پر کام جاری ہے۔عرب خبر رساں ادارے العریبہ نے ذرائع کے حوالےسے دعویٰ کیا ہے کہ رفح کراسنگ کی وسیع پیمانے پر بحالی پیر کو متوقع ہے. تاہم ابھی تک اس بات پر اتفاق نہیں ہو سکا کہ کتنے فلسطینیوں کو داخلے یا خروج کی اجازت دی جائے گی۔ مصر ان تمام فلسطینیوں کو ہی قبول کرے گا جنہیں اسرائیل روانگی کی اجازت دے گا۔غزہ جنگ بندی کے بعد انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل اسرائیل سے امدادی سامان اور مریضوں کی آمد و رفت کے لیے رفح کراسنگ کھولنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔رفح کراسنگ غزہ کی جنوبی سرحد پر مصر کے ساتھ واقع ہے اور یہ واحد راستہ ہے جو اسرائیل سے گزرے بغیر غزہ میں داخلے اور اخراج کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ علاقہ امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے تحت نام نہاد ’یلو لائن‘ سے پیچھے ہے۔واضح رہے کہ اسرائیلی افواج اب بھی غزہ کے نصف سے زائد حصے پر قابض ہیں جس میں رفح کراسنگ بھی شامل ہے جبکہ باقی علاقہ حماس کے کنٹرول میں ہے۔رفح کراسنگ کی بحالی سے غزہ کے انتظامی امور کے لیے قائم 15 رکنی فلسطینی ٹیکنوکریٹک ادارے ’نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ‘ کی انتظامی معاملات کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے، یہ کمیٹی غزہ کے روزمرہ امور کی نگرانی کرے گی جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں قائم ’بورڈ آف پیس‘ کی سرپرستی حاصل ہوگی۔

Faisal Bukhari

Recent Posts

صدر مملکت آصف زرداری سے گورنر پنجاب کی اہم ملاقات پنجاب کے انتظامی امورپر تبادلہ خیال

پاکستان نیوز پوائنٹ صدر مملکت آصف علی زرداری سے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان…

10 hours ago

احتجاج اور دھرنوں سے معیشت کو یومیہ 120 ارب روپے کا نقصان ہوگا وزیر خزانہ

پاکستان نیوز پوائنٹ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان اب معاشی استحکام…

10 hours ago

اسحاق ڈار کا فیول اسکیم کا جائزہ ایس ایم ایس کے ذریعے فیول ٹوکنز کے استعمال کی منظوری

پاکستان نیوز پوائنٹ نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار نے ہر فعال فیول اسٹیشن کو نظام…

10 hours ago

حوثیوں کےحملے پاکستان کیساتھ مکہ معاہدےکے تحت سعودی عرب کی عسکری ضروریات کا جائزہ لیں گے ترک وزیر خارجہ

پاکستان نیوز پوائنٹ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہےکہ یمنی حوثیوں کے جاری…

10 hours ago

اطالوی وزیرِاعظم کا اسکولوں میں نقاب اور برقع پہننے پر پابندی لگانے کا اعلان

پاکستان نیوز پوائنٹ اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے…

10 hours ago

یورپی ملک میں خفیہ میٹنگ امریکا دوبارہ حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ایران کا دعویٰ

پاکستان نیوز پوائنٹ ایران نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اُس پر دوبارہ…

11 hours ago