ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو طاقت سے روکا جائے گا سربراہ امریکی فوج

پاکستان نیوز پوائنٹ
امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی ساحلی پٹی اور بندرگاہوں کی ناکہ بندی کررہے ہیں. سمندری ناکہ بندی ایران جانے والے تمام جہازوں کے لیے ہے. آبنائے ہرمز سے کسی کو گزرنے کی اجازت نہیں. امریکی افواج ایک اشارے پر حملے کے لیے تیار ہے۔واشنگٹن میں جمعرات کو نیوز بریفنگ کے دوران امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ان تمام جہازوں پر لاگو ہے جو ایرانی بندرگاہوں میں داخل یا وہاں سے نکل رہے ہیں اور ناکہ بندی کا نفاذ ایران کی علاقائی سمندری حدود کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی پانیوں میں بھی کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ پابندی کسی ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ تمام جہازوں پر لاگو ہے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو۔ جنرل ڈین کین کے مطابق امریکی فوج ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور ایران کی مدد کرنے والے کسی بھی جہاز کا بھی تعاقب کیا جائے گا۔جنرل ڈین کین کا کہنا تھا کہ ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے والے جہازوں کو روکا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر ان کے خلاف کارروائی بھی کی جا سکتی ہے تاہم ابھی تک کسی جہاز کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی، امریکی افواج ایک اشارے پر حملے کے لیے تیار ہے۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے مزید کہا کہ بحری ناکہ بندی کا مقصد تیل کی سپلائی روکنا ہے. اب تک 13 جہازوں کو واپس بھیجا جاچکا ہے. ناکہ بندی کے باعث ایران کی برآمدات رک گئی ہیں۔دوسری جانب امریکا نے ایران کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی کو مزید وسعت دیتے ہوئے ایسے تمام جہازوں کو بھی شامل کرلیا ہے، جن پر ممنوعہ سامان کی ترسیل کا شبہ ہو، امریکی بحریہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران جانے والے مشتبہ جہازوں کی تلاشی لی جائے گی اور قبضے میں لیا جا سکتا ہے۔ایڈوائزری کے مطابق ایسے جہاز “بیلیجرنٹ رائٹ ٹو وزٹ اینڈ سرچ” کے تحت آئیں گے، جس کے تحت امریکی افواج کو انہیں روکنے اور جانچنے کا اختیار حاصل ہوگا۔امریکی حکام نے بتایا کہ ممنوعہ سامان میں اسلحہ، اسلحہ کے نظام، گولہ بارود، جوہری مواد، خام اور ریفائنڈ تیل، آئرن، اسٹیل اور ایلومینیم شامل ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا پہلے ہی ایران پر بحری ناکہ بندی نافذ کرچکا ہے اور اب اس کے دائرہ کار کو مزید بڑھا دیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *