پاکستان نیوز پوائنٹ
وفاقی حکومت نے 11ویں نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کیلئے آٹھ اہم کمیٹیاں قائم کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ نے وسائل کی تقسیم، قرضوں کے معاملات اور ٹیکس اصلاحات پر مختلف ورکنگ گروپس تشکیل دیے ہیں تاکہ این ایف سی سے متعلق امور کو حتمی شکل دی جا سکے۔ ذرائع کے مطابق قابل تقسیم پول کی ساخت پر نظرثانی کیلئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں ایک خصوصی گروپ بنایا گیا ہے، جبکہ وفاق کسٹم ڈیوٹی کو قابل تقسیم پول سے نکالنے پر بھی غور کر رہا ہے۔ خیبرپختونخوا نے آبادی اور حدود کی بنیاد پر این ایف سی شیئر میں چار فیصد اضافے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کے مطابق غلط توانائی پالیسیوں کے باعث گیس اور بجلی میں 50 کھرب روپے سے زائد کا گردشی قرضہ پیدا ہوا، جبکہ چینی پاور پلانٹس کو 51 کھرب روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی جا چکی ہیں۔ دوسری جانب سندھ نے اخراجات کی شیئرنگ کیلئے قائم گروپ کو این ایف سی کے مینڈیٹ کے خلاف قرار دیا ہے۔ ماہر معاشیات ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق صوبوں کو آئینی حد 57.5 فیصد کے بجائے گزشتہ مالی سال صرف 45.8 فیصد حصہ ملا، جبکہ پٹرولیم لیوی قابل تقسیم پول کا حصہ نہ ہونے کے باعث صوبوں کا حصہ مزید کم ہوا۔
پاکستان نیوز پوائنٹ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کردیے…
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد…
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نےکہا کہ سندھ کو مزید صوبوں میں…
پاکستان نیوز پوائنٹ سپریم کورٹ کی جج جسٹس مسرت ہلالی ریٹائر ہو گئیں،ان کے اعزاز…
پاکستان نیوز پوائنٹ تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک کے ایک اسکول میں فائرنگ کے نتیجے…
پاکستان نیوز پوائنٹ یمن میں سرگرم حوثی ملیشیا نے ایک بار پھر سعودی عرب کے…