پاکستان نیوز پوائنٹ
پنجاب حکومت کا آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ ٹیکس فری رکھنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت نے محصولات میں اضافے کے ساتھ ساتھ فلاحی اور ترقیاتی منصوبوں کے تسلسل کو بھی بجٹ کا اہم حصہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران پنجاب کی ٹیکس وصولیوں کا مجموعی ہدف تقریباً 712 ارب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔محصولات میں سب سے زیادہ آمدن جی ایس ٹی آن سروسز سے متوقع ہے، جس سے تقریباً 320 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔بجٹ تجاویز کے مطابق کسانوں، طلبہ اور مزدوروں کے لیے جاری سبسڈی پروگرام برقرار رکھے جائیں گے۔زرعی شعبے کی معاونت کے لیے ٹریکٹرز، سولر ٹیوب ویلز، سستے بیج اور کھاد پر سبسڈی دینے کی تجویز بھی شامل ہے تاکہ کاشتکاروں کی پیداواری لاگت میں کمی لائی جا سکے۔تعلیمی شعبے میں نوجوانوں کی معاونت کے لیے ہونہار اسکالرشپ پروگرام اور الیکٹرک بائیک اسکیم کو بھی جاری رکھنے کا امکان ہے، جس کا مقصد طلبہ کو تعلیمی سہولیات اور سفری آسانیاں فراہم کرنا ہے۔محصولات کے مختلف ذرائع سے آمدن کے تخمینوں کے مطابق ایکسائز ڈیوٹی سے 128 ارب روپے، اسٹامپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن فیس سے 90 ارب روپے جبکہ سیلز ٹیکس سے 82 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔اسی طرح موٹر وہیکل ٹیکس کی مد میں 47 ارب روپے اور بجلی سے متعلق ٹیکسز و ڈیوٹیز سے 35.2 ارب روپے آمدن متوقع ہے، جبکہ لینڈ ریونیو سے 1.7 ارب روپے وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ترقیاتی اور عوامی سہولتوں کے منصوبوں کے لیے بھی خطیر فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ اور مقامی حکومتوں کے شعبوں کے لیے مجموعی طور پر 550 ارب روپے سے زائد رقم مختص کیے جانے کا امکان ہے۔جنوبی پنجاب کے لیے ترقیاتی فنڈز کا 35 فیصد حصہ مختص رکھنے کی موجودہ پالیسی برقرار رکھنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ کا بنیادی مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا، زرعی اور تعلیمی شعبوں کی معاونت جاری رکھنا اور صوبے میں ترقیاتی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔دوسری جانب پنجاب حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہو گئی ہیں، نئے بجٹ میں بلدیاتی اداروں کو خودمختار بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے لیے پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 1452 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ بلدیاتی اداروں کی ترقی کے لیے 156 ارب روپے مختص کیے جائیں گے، جبکہ بلدیاتی اداروں کے لیے مجموعی طور پر 250 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ذرائع کے مطابق یونین کونسلز میں سیوریج سسٹم اور سڑکوں کی بحالی کے منصوبوں کے لیے 50 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔بجٹ تجاویز کے تحت ٹرانسپورٹ کے شعبے کے لیے 303 ارب روپے مختص کیے جائیں گے، جبکہ مثالی گاؤں پروگرام کے لیے 30 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے پولیس ٹریننگ کالجز اور جمنازیم بلدیاتی اداروں کو دینے اور بلدیاتی اداروں کو خودمختار بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان نیوز پوائنٹ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی شرعی عدالت کے قائم مقام…
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم شہباز شریف سے ملک بھر کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری…
پاکستان نیوز پوائنٹ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان شراکت داری کے مزید فروغ پر…
پاکستان نیوز پوائنٹ دنیا ٹی وی کے مطابق پنجاب میں پرائیویٹ جنریٹرز اور سولر پاور…
پاکستان نیوز پوائنٹ ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی…
پاکستان نیوز پوائنٹ ادارہ شماریات کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق جون2024 کے بعد گزشتہ ماہ…