اردو نیوز اپڈیٹس

ایران کے نئے رہنما نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے صدر ٹرمپ کا دعویٰ

پاکستان نیوز پوائنٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے رہنما نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے تاہم اس درخواست پر آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد ہی اس پر غور کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’سوشل ٹروتھ‘ پر جاری پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے رہنما نے حال ہی میں امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے ایران کے نئے رہنما کو سابقہ رہنماؤں کے مقابلے میں ذہین قرار دیا۔صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی درخواست پر اس وقت غور کیا جائے گا جب آبنائے ہرمز پر آزادانہ آمد ورفت بحال ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس شرط کے پورا نہ ہونے تک ایران پر امریکی حملے جاری رہیں گے اور انہیں پتھر کے زمانے میں پہنچا دیں گے۔اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران سے جلد نکل جائے گا اور ضرورت پڑنے پر صرف مخصوص اہداف پر حملے کرے گا۔ انہوں نے نیٹو کے بارے میں بھی اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ امریکا کو نیٹو سے نکالنے پر غور کر رہے ہیں۔رائٹرز کے ساتھ ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے معاملے میں دوست ممالک نے امریکا کی حمایت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی ان سے زیادہ کچھ نہیں مانگا، لیکن جب ہمیں ضرورت پڑی تو دوستوں نے ساتھ نہیں دیا۔ایران جنگ کے اختتام کے حتمی اوقات سے متعلق سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’میں بالکل نہیں بتا سکتا مگر ہم جلد ہی نکل جائیں گے‘۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بجے قوم سے خطاب کریں گے، جس میں ایران جنگ کے حوالے سے اہم اعلانات متوقع ہیں۔ایران جنگ کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں۔ امریکا کے اہم ترین اتحادی ممالک (نیٹو) نے بھی اس جنگ میں شامل ہونے سے صاف انکار کردیا ہے۔برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکی صدر کی مسلسل تنقید کے باوجود بدھ کے روز واضح طور پر اعلان کیا کہ برطانیہ ایران سے متعلق جاری تنازع میں ہرگز شامل نہیں ہوگا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیئر اسٹارمر کو ایران جنگ میں شامل نہ ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ٹرمپ نے انہیں بزدل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ونسٹن چرچل نہیں ہیں۔ کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ برطانیہ کسی بھی دباؤ میں آ کر خود کو جنگ میں نہیں جھونکے گا۔دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ تہران اور امریکا کے درمیان براہِ راست اور علاقائی ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان رابطوں کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان باقاعدہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ راستہ ایران اور عمان کی سمندری حدود میں آتا ہے اور اسے تزویراتی طور پر استعمال کرنا ایک عام بات ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ یہ راستہ صرف ان جہازوں کے لیے بند ہے جو ایران کے ساتھ جنگ کا حصہ ہیں، جنگ کے دوران یہ ایک معمول کی بات ہے اور ہم اپنے دشمنوں کو تجارت کے لیے اپنی سمندری حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

Faisal Bukhari

Recent Posts

وزیراعظم نے برآمدات میں اضافے کے لیے ٹی ڈی اے پی کو جدید بنانے کی منظوری دے دی

پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی…

4 hours ago

وسط مدتی انتخابات امریکا کا اندرونی معاملہ ہے ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان نیوز پوائنٹ ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ امریکا کے…

4 hours ago

پاکستان اور روس کا آئی ٹی مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

پاکستان نیوز پوائنٹ پاکستان اور روس کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ…

4 hours ago

پاکستان اور برطانیہ کا دہشتگردی منشیات سمگلنگ سائبر کرائم کیخلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

پاکستان نیوز پوائنٹ پاکستان اور برطانیہ نے انسدادِ دہشت گردی، انسدادِ منشیات، سائبر کرائم، غیر…

4 hours ago

امیرِ قطر کا ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے پر زور

پاکستان نیوز پوائنٹ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور امریکی صدر…

4 hours ago

ایران پر حملوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے عراق کا ٹرمپ کو واضح پیغام

پاکستان نیوز پوائنٹ عراق نے واضح کیا ہے کہ اس کی سرزمین کو پڑوسی ممالک…

4 hours ago