پاکستان نیوز پوائنٹ
جی 7 ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ایران یمن میں حوثیوں کو اسلحہ فراہم کرنا اور ان کی حمایت کرنا بند کرے۔ جی 7 نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت بھی کی اور کہا کہ یمن میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی میں حالیہ شدت خطے اور عالمی توانائی کے تحفظ کے لیے خطرہ ہے۔ حالیہ دنوں میں ہزاروں پناہ گزین یمن سے فرار ہو چکے ہیں، جب ایران کی حمایت یافتہ اس تنظیم نے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے میں مزید علاقہ اپنے قبضے میں لیے، ان میں آبنائے باب المندب کے قریب کے علاقے بھی شامل ہیں، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔ یہ بیان نیو یارک میں اقوام متحدہ کی سالانہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل سامنے آیا ہے، جہاں ایران کے اعلیٰ حکام کی تقاریر متوقع ہیں۔ برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکہ کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ ہم حوثیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر تمام فوجی کارروائیاں، شہری جہاز رانی کے خلاف تمام دھمکیاں اور حملے بند کریں اور نیک نیتی کے ساتھ سیاسی عمل کی جانب واپس آئیں۔ دوسری جانب یمن کے اہم شہر مخا پر سعودی حملوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں، یہ اطلاع حوثیوں سے منسلک ذرائع ابلاغ کے حوالے سے دی گئی ہے۔ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں دو بچے اور ایک خاتون شامل ہیں جبکہ آٹھ دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں، حوثیوں نے اس ماہ کے آغاز میں حکومت نواز فورسز سے لڑائی کے بعد مخا شہر پر قبضہ کیا تھا۔ یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی عرب نے ان مبینہ حملوں پر تا حال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے میں لڑائی میں اچانک اضافے کے باعث مجموعی طور پر ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ یمنی بے گھر ہو چکے ہیں۔
پاکستان نیوز پوائنٹ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق…
پاکستان نیوز پوائنٹ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے فوجی دستوں کو…
پاکستان نیوز پوائنٹ آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام…
پاکستان نیوز پوائنٹ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے…
پاکستان نیوز پوائنٹ بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر…
پاکستان نیوز پوائنٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس…