پاکستان نیوز پوائنٹ
برطانیہ نے اسائلم پالیسی میں تبدیلیاں کردیں جس کے تحت سیاسی پناہ حاصل کرنے میں ناکام رہنے والوں کو فوری ملک سے باہر نکالاجائے گا ۔برطانیہ نے سياسی پناہ کی مدت 5 سال سے کم کر کے 30 ماہ اور مستقل رہائش کے ليے 5 سال کے بجائے 20 سال انتظار کی شرط رکھ دی۔سیاسی پناہ کے نظام میں بنیادی اصلاحات کا اعلان وزیر داخلہ شبانہ محمود نے پارلیمنٹ سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پناہ حاصل کرنے والوں کو برطانیہ میں عارضی قیام کی اجازت ملے گی تاہم 5 کی بجائےڈھائی سال بعد پناہ کی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا، آبائی ملک کو محفوظ تصور کئے جانے کی صورت میں پناہ گزین کو واپس بھیج دیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ پناہ کے طالب افراد صرف ایک اپیل کرسکیں گے جو رد ہونے کی صورت میں ملک بدر کیا جائے گا۔نئے قواعدکے بعد خاندانی زندگی کا حق صرف انہیں ملے گا جو قریبی عزیزوں کے ساتھ رہ رہے ہوں گے ۔ پناہ گزینوں کے لیے ہاؤسنگ اور ہفتہ وار الاؤنس کی بھی اب ضمانت نہیں ہوگی، سیاسی پناہ طلب کرنے والوں کو برطانیہ میں مستقل رہائش کےلیے 20 برس انتظار کرنا ہوگا۔یاد رہے کہ گزشتہ 4 برس میں 4 لاکھ افراد نے برطانیہ میں پناہ طلب کی۔
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خطے میں امن و استحکام…
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم شہباز شریف نے مئی میں دورۂ چین کا فیصلہ کیا ہے…
پاکستان نیوز پوائنٹ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت 4 گھنٹے طویل اجلاس…
پاکستان نیوز پوائنٹ سوشل میڈیا پر خواتین اور بچوں کی جنسی ہراسگی کےخلاف کیسز کےمعاملہ…
پاکستان نیوز پوائنٹ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافے کا سلسلہ…
پاکستان نیوز پوائنٹ متحدہ عرب امارات کے ایک عہدیدار نے بدھ کے روز سی این…