پاکستان نیوز پوائنٹ
برطانیہ کی اکثریت کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف برطانیہ میں تعصب پایا جاتا ہے، مسلمان اور غیر مسلم ایک ساتھ پُرامن طور پر رہ سکتے ہیں۔ ایک تازہ ترین سروے کے مطابق 17 فیصد برطانوی عوام کا خیال ہے کہ مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ برطانوی ثقافت کے لیے ایک بنیادی خطرہ ہے، جبکہ 19 فیصد افراد اس بات سے متفق نہیں کہ اس ملک میں پیدا ہونے والے مسلمان اتنے ہی برطانوی ہیں جتنے سفید فام افراد ہیں۔سروے کے مطابق 57 فیصد عوام نے اس بات سے اتفاق کیا کہ برطانیہ کے قصبوں اور شہروں میں مسلمان اور غیر مسلم ایک ساتھ پُرامن طور پر رہ سکتے ہیں۔63 فیصد افراد نے تسلیم کیا کہ معاشرے میں مسلمانوں کے خلاف تعصب پایا جاتا ہے، جبکہ 61 فیصد عوام نے کہا کہ وہ اس تعصب کے خاتمے کے لیے حکومتی اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ایک دوسرے گروپ کے 41 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ حکومت کو مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز رویہ رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے، بشرطیکہ اس سے آزادیِ اظہار متاثر نہ ہو۔مسلمانوں میں 73 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ برطانیہ مسلمانوں کے رہنے کے لیے ایک اچھی جگہ ہے جبکہ 67 فیصد نے اپنی برطانوی شناخت کے بارے میں مثبت احساس کا اظہار کیا۔برطانیہ میں پیدا ہونے والے 70 فیصد مسلمانوں نے کہا ہے کہ وہ خود کو اتنا ہی برطانوی سمجھتے ہیں جتنا کہ سفید فام لوگ ہیں۔61 فیصد مسلمانوں کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال انہیں صرف مذہب کی بنیاد پر تعصب کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 69 فیصد مسلمانوں، خصوصاً خواتین، کا خیال تھا کہ گزشتہ سال ہونے والی بعض دائیں بازو کی احتجاجی سرگرمیوں کے بعد انہوں نے خود کو کم محفوظ محسوس کیا۔گلاسگو سٹی کونسل میں ڈپٹی ٹو لارڈ مئیر حنیف راجہ نے کہا کہ یہ کسی طور پر مناسب نہیں کہ معاشرے کے ایک حصے کو اس کے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا جائے۔
پاکستان نیوز پوائنٹ صدر مملکت آصف علی زرداری سے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان…
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان اب معاشی استحکام…
پاکستان نیوز پوائنٹ نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار نے ہر فعال فیول اسٹیشن کو نظام…
پاکستان نیوز پوائنٹ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہےکہ یمنی حوثیوں کے جاری…
پاکستان نیوز پوائنٹ اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے…
پاکستان نیوز پوائنٹ ایران نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اُس پر دوبارہ…