پاکستان نیوز پوائنٹ
ایرانی وزیر خارجہ نے برطانوی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور دو ٹوک مؤقف بیان کیا کہ امریکا کو فوجی اڈے فراہم کرنا جارحیت میں شمولیت تصور ہوگا۔ ایران نے خبردار کیا کہ ایسے ممالک کو جنگ کا حصہ سمجھا جائے گا، ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی مدد کو براہِ راست شرکت تصور کیا جائے گا، ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ دشمن کے تمام فوجی اڈے ہدف بن سکتے ہیں۔ قبل ازیں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نے اپنی فوجی طاقت کا اب تک صرف معمولی حصہ استعمال کیا ہے اور اگر ایرانی انفراسٹرکچر پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو ردعمل انتہائی سخت ہوگا۔ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اب تک ایران نے کشیدگی کو بڑھانے سے گریز کیا اور عالمی برادری کی درخواستوں پر عمل کیا ہے، موجودہ ردعمل ایران کی طاقت کا صرف چند فیصد ہے، اور اگر جنگ روکنی ہے تو شہری آبادیوں کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ لازمی ہوگا۔ وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کی ہر کارروائی دفاعی نوعیت کی ہے اور کسی بھی اضافی حملے یا خطرے کی صورت میں سخت اور جامع ردعمل دیا جائے گا، تحمل اور تعمیری اقدامات ہی خطے میں امن کے قیام کی ضمانت ہیں۔ خیال رہے کہ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہےکہ ایران کی جانب سے فائرنگ کا نشانہ بنائے جانے کے بعد ایک ایف 35 اسٹیلتھ طیارے نے مشرق وسطیٰ کے امریکی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کی ہے جبکہ امریکا کا بی 52 بمبار طیارہ واپس برطانیہ پہنچ گیا ہے۔
پاکستان نیوز پوائنٹ قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی نے امریکا اور ایران…
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بیلسٹک میزائل کے حوالے بلاخوف…
پاکستان نیوز پوائنٹ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے اہم پیشرفت…
پاکستان نیوز پوائنٹ دفترِ خارجہ پاکستان کے ترجمان طاہر حسین اندرابی کا کہنا ہے کہ…
پاکستان نیوز پوائنٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس وصولی پر…
پاکستان نیوز پوائنٹ امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے آبنائے ہرمز پر کوئی ملک…