اردو نیوز اپڈیٹس

حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

پاکستان نیوز پوائنٹ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے

Faisal Bukhari

Recent Posts

صدر مملکت آصف زرداری سے گورنر پنجاب کی اہم ملاقات پنجاب کے انتظامی امورپر تبادلہ خیال

پاکستان نیوز پوائنٹ صدر مملکت آصف علی زرداری سے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان…

14 minutes ago

احتجاج اور دھرنوں سے معیشت کو یومیہ 120 ارب روپے کا نقصان ہوگا وزیر خزانہ

پاکستان نیوز پوائنٹ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان اب معاشی استحکام…

16 minutes ago

اسحاق ڈار کا فیول اسکیم کا جائزہ ایس ایم ایس کے ذریعے فیول ٹوکنز کے استعمال کی منظوری

پاکستان نیوز پوائنٹ نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار نے ہر فعال فیول اسٹیشن کو نظام…

19 minutes ago

حوثیوں کےحملے پاکستان کیساتھ مکہ معاہدےکے تحت سعودی عرب کی عسکری ضروریات کا جائزہ لیں گے ترک وزیر خارجہ

پاکستان نیوز پوائنٹ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہےکہ یمنی حوثیوں کے جاری…

21 minutes ago

اطالوی وزیرِاعظم کا اسکولوں میں نقاب اور برقع پہننے پر پابندی لگانے کا اعلان

پاکستان نیوز پوائنٹ اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے…

24 minutes ago

یورپی ملک میں خفیہ میٹنگ امریکا دوبارہ حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ایران کا دعویٰ

پاکستان نیوز پوائنٹ ایران نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اُس پر دوبارہ…

1 hour ago