پاکستان نیوز پوائنٹ
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یمن میں حوثیوں کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی اور بحیرہ احمر کے اہم راستے کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف براہ راست فوجی حملے کرنے کی درخواست کی، تاہم ٹرمپ نے اس درخواست سے انکار کردیا۔امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ محمد بن سلمان نے جمعرات کو صدر ٹرمپ سے دو مرتبہ ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ پہلی گفتگو میں سعودی ولی عہد نے یمن کی بگڑتی صورتِ حال سے آگاہ کیا، جبکہ چند گھنٹوں بعد دوسری کال میں انہوں نے امریکا سے حوثیوں کے خلاف فضائی حملے کرنے پر زور دیا۔امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ نے براہِ راست فوجی کارروائی کی درخواست قبول نہیں کی اور فی الحال حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی مداخلت کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حوثی فورسز یمن کے ساحلی شہر مخا کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کو پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔ حوثیوں کی بحیرہ احمر کے اہم علاقے میں بڑھتی موجودگی کے باعث باب المندب کے قریب صورتِ حال مزید اہم ہوگئی ہے۔باب المندب آبنائے عالمی تجارت اور سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں پہلے ہی رکاوٹیں پیدا ہونے کے بعد باب المندب پر حوثیوں کے ممکنہ کنٹرول نے امریکا اور خلیجی اتحادیوں کی تشویش بڑھا دی ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکا یمن میں تیزی سے بڑھتی کشیدگی پر نظر رکھے ہوئے ہے اور سعودی عرب کی مدد بھی بڑھا رہا ہے، تاہم واشنگٹن براہ راست فوجی جنگ میں شامل ہونے سے گریز کر رہا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر بھی جمعرات کو ہنگامی رابطوں اور مشاورت کے لیے سعودی عرب پہنچے۔ تاہم واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے اور وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔رپورٹ کے مطابق امریکا سعودی عرب کو حوثیوں سے متعلق انٹیلی جنس معلومات اور ممکنہ اہداف کی معلومات فراہم کرے گا۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ تقریباً 200 امریکی فوجی اہلکار پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں اور وہ غیر جنگی نوعیت کی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی جولائی میں دوبارہ شدت اختیار کرگئی تھی، جب ریاض نے ایران سے آنے والے ایک طیارے کو صنعاء میں اترنے سے روک دیا تھا۔ اس طیارے میں حوثیوں کے بعض اعلیٰ عہدیدار سوار تھے۔اس کے بعد محمد بن سلمان نے حوثیوں کے خلاف کارروائی کے لیے صدر ٹرمپ سے سیاسی حمایت مانگی تھی۔اس وقت سعودی عرب نے امریکا کو بتایا تھا کہ اسے براہ راست فوجی مدد کی ضرورت نہیں، جبکہ ٹرمپ نے سعودی کارروائی کی سیاسی حمایت کی تھیبعد ازاں حوثیوں نے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا اور سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر بھی حملوں کا دائرہ بڑھا دیا۔ جواب میں سعودی عرب اور اس کے یمنی اتحادیوں نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے اور زمینی کارروائیاں کیں۔تاہم اب صورتِ حال بدلتی نظر آ رہی ہے اور سعودی عرب نے امریکا سے براہ راست فوجی کارروائی کی درخواست کی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے حالیہ ہفتوں میں سعودی حکام کو واضح کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی ترجیح امریکی فوجی توجہ ایران اور آبنائے ہرمز پر مرکوز رکھنا ہے اور امریکا کسی نئے محاذ میں الجھنے سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ امریکا اپنے بنیادی قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے، جن میں بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا شامل ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنے علاقائی شراکت داروں کو علاقائی سلامتی کے مسائل سے نمٹنے اور ان کے حل میں مرکزی کردار ادا کرنے کے لیے بااختیار بنا رہے ہیں۔امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا سعودی عرب اور یمن کی حکومت کے ساتھ علاقائی استحکام کے معاملے پر مسلسل رابطے میں ہے۔
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم شہبازشریف نے قائداعظم محمد علی جناح کی 78 ویں برسی پراپنے…
پاکستان نیوز پوائنٹ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے…
پاکستان نیوز پوائنٹ وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان سے ہانگ کانگ کے چیف…
پاکستان نیوز پوائنٹ بانی پاکستان بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی 78ویں برسی…
پاکستان نیوز پوائنٹ غیر یقینی جیو پولیٹیکل صورتحال کے باعث عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں…
پاکستان نیوز پوائنٹ کرم میں سکیورٹی فورسز نے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کر کے…