پاکستان نیوز پوائنٹ
لاہور ہائیکورٹ کا کام کی جگہ خواتین کوہراساں کرنے سے متعلق بڑا فیصلہ, ہراساں کرنے کی جگہ صرف آفس بلڈنگ تک محدود نہیں , ہراسانی سے متعلق درج ایف آئی آر محتسب کا اختیار محدود نہیں کرتی لاہور ہائیکورٹ کا کہنا فیصلے میں کہنا تھا کہ قانون میں کام کی جگہ کی تعریف بہت وسیع ہے، جسٹس راحیل کامران شیخ نے شہری عمر شہزاد کی درخواست پر 16 صفحات کا تحریری حکم جاری کیا۔
شہری نےخاتون محتسب اور گورنر پنجاب کے فیصلوں کیخلاف ہائیکورٹ سے رجوع کیاتھا، پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد عثمان خان نے دلائل دئیے۔ فیصلہ میں کہا گیا کہ کام کی جگہ اور ہراسانی کی تعریف کو اکٹھا پڑھا جائے گا، قانون میں ہراسانی کی تعریف سے عیاں ہوتا ہے کہ یہ صرف آفس کی عمارت تک محدود نہیں ،دو لوگوں کا محض کولیک ہونا کافی نہیں۔ ہمارے کلچر کی حقیقت ہے کہ بدنامی کے ڈر سے خواتین ہراسگی رپورٹ نہیں کرتیں ،متاثرہ خاتون کی خاموشی ،جلد رپورٹ نہ کرنےکو خاتون کیخلاف استعمال نہیں کیا جاسکتا ۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عثمان خان نے گورنر ،صوبائی محتسب کے فیصلوں کا دفاع کیا ، لاء افسر کا اپنےموقف میں کہنا تھا کہ محتسب ،گورنر کے فیصلے قانون کے مطابق ہیں ، عدالت مداخلت نہیں کرسکتی ،درخواست گزار صوبائی محتسب کے فیصلوں میں کسی قانونی سقم کی نشاندھی نہیں کرسکا۔
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سمندر پار پاکستانی ہمارے قومی…
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ میر رضا قتل کیس…
پاکستان نیوز پوائنٹ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور سعودی عرب کے…
پاکستان نیوز پوائنٹ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف کا کہنا ہے کہ…
پاکستان نیوز پوائنٹ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ اس…
پاکستان نیوز پوائنٹ ایرانی فوج کے کمانڈر نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر…