پاکستان نیوز پوائنٹ
سعودی عرب کے قومی ادارہ برائے پیشگی اطلاع و ہنگامی حالات نے منگل کے روز ملک کے مغربی علاقوں بالخصوص جدہ، مکہ مکرمہ اور طائف میں حوثیوں کے حملے کے پیشِ نظر ممکنہ خطرے کی وارننگ جاری کی ہے۔سعودی سول ڈیفنس کی جانب سے جاری کردہ اس الرٹ میں شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے حواس برقرار رکھیں اور فوری طور پر کسی محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔حکام نے وارننگ میں ممکنہ خطرے کی حتمی نوعیت تو واضح نہیں کی، تاہم شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی خطرے سے بچنے کے لیے مکانات یا عمارتوں کے اندرونی کمروں میں رہیں جو کھڑکیوں، بالکونیوں اور چھتوں سے دور ہوں۔سعودی سول ڈیفنس نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ کھلی جگہوں پر موجود افراد فوری طور پر کسی نزدیک ترین عمارت یا کسی مضبوط دیوار کی اوٹ میں چلے جائیں اور خطرہ ٹلنے تک وہیں موجود رہیں۔شاہراہوں پر سفر کرنے والے گاڑی سواروں سے کہا گیا ہے کہ الرٹ ملتے ہی وہ اپنی گاڑیاں پلوں اور بلند عمارتوں سے دور کر کے سڑک کے کنارے روک لیں، جبکہ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری اجتماعات اور خطرناک علاقوں میں جانے سے مکمل طور پر گریز کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے دی جانے والی ہدایات پر ہی عمل کریں۔سعودفی حکام کی جانب سے جاری کیا گیا یہ الرٹ ایک گھنٹے تک برقرار رہا اور پھر اعلان کیا گیا کہ خطرہ ٹل چکا ہے۔منگل کی صبح بھی سعودی عرب کے متعدد علاقوں پر یمن کی انصار اللہ تحریک (حوثی باغیوں) کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد جدہ، ینبع، طائف، ابہا، جازان اور العلا سمیت کئی اہم شہروں میں پیشگی وارننگ جاری کی گئی تھی اور سائرن بجا کر شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ انصار اللہ کی جانب سے خمیس مشیط، ابہا اور طائف میں شہری آبادی کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں 13 شہری معمولی سے درمیانے درجے تک زخمی ہوئے جبکہ سات مکانات اور دو گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔اس سے قبل پچھلے ہفتے بھی حوثی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت ستر سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی تھی، جبکہ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کو اپنی اہم ترین ایسٹ ویسٹ پائپ لائن عارضی طور پر بند کرنا پڑی تھی جس کی خلیجی اور اسلامی تنظیموں نے شدید مذمت کی ہے.یہ ہنگامی الرٹس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سعودی عرب اور یمن کی حوثی تحریک کے درمیان مسلح تصادم میں شدید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔حالیہ دنوں میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے شہروں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں. جس کے جواب میں سعودی افواج نے بھی یمن میں حوثیوں کے عسکری ٹھکانوں پر شدید فضائی اور زمینی کارروائیاں کی ہیں۔گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سعودی فضائیہ نے یمن کے 54 مقامات کو ہدف بنا کر شدید بمباری کی ہے۔قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے حوثی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ یہ فضائی کارروائیاں لحج، تعز، الجوف، مأرب اور حجۃ کے علاقوں میں کی گئیں، جبکہ تعز کے اضلاع ذباب اور مقبنہ میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں دو بچوں سمیت تین افراد جاں بحق اور دو زخمی ہوئے۔دوسری جانب اسرائیلی میڈیا نے علاقائی سفارت کاروں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے خلیجی ممالک اور مصر سے باضابطہ جبکہ امریکی سینٹ کام کے ذریعے اسرائیل سے بھی انٹیلی جنس اور دیگر دفاعی معاونت کی اپیل کی ہے تاکہ باب المندب کو بند ہونے سے روکا جا سکے۔
پاکستان نیوز پوائنٹ وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے باعث پیٹرولیم اسمارٹ…
پاکستان نیوز پوائنٹ لبنان کے وزیر داخلہ احمد الحجار وزارتِ داخلہ پہنچے، جہاں وفاقی وزیر…
پاکستان نیوز پوائنٹ وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے سلسلے میں…
پاکستان نیوز پوائنٹ گورنر پنجاب سے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال…
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے آج شام 5 بجے دوبارہ سٹریٹ موومنٹ…
پاکستان نیوز پوائنٹ پاکستان اور عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں آج بھی بڑی…