اردو نیوز اپڈیٹس

وزیر دفاع خواجہ آصف سیاستدانوں اور بیوروکریسی کے احتساب کے حوالے سے کھل کر بول پڑے

پاکستان نیوز پوائنٹ
وزیر دفاع خواجہ آصف سیاستدانوں اور بیوروکریسی کے احتساب کے حوالے سے کھل کر بول پڑے ۔’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے بیوروکریسی کو پاکستان کے اصل اور مستقل حکمران قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی 78 سالہ تاریخ میں سیاست دانوں سمیت دیگر حکمران طبقات کا احتساب تو ہوا، تاہم بیوروکریسی کو کبھی اس طرح جوابدہ نہیں بنایا گیا۔ ایک سینیئر بیوروکریٹ کی مبینہ مالی بدعنوانی سے متعلق پوسٹ شیئر کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ میں سیاست دانوں کے احتساب کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں، جبکہ دیگر حکمران طبقات کے حوالے سے بھی کچھ مثالیں موجود ہیں، لیکن بیوروکریسی کے احتساب کی مثالیں تلاش کرنا مشکل ہے۔خواجہ آصف نے ماضی کے ایک بیوروکریٹ حکمران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ سیاست دانوں کے منہ پر انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کرتے تھے اور سیاست دان اسے برداشت کرلیتے تھے، اگر گزشتہ 78 برس کے دوران بیوروکریٹس کو وزراء اور مشیروں کے طور پر شمار کیا جائے تو ان کی تعداد بھی بہت زیادہ بنتی ہے۔ اگر بیوروکریسی آج ایک ناقابل گرفت طبقہ بن چکی ہے اور کوئی اسے جوابدہ کرنے والا نہیں تو اس کے ذمہ دار دراصل سیاست دان اور ان کی کمزوریاں ہیں، جبکہ بیوروکریٹس صرف اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے والے کردار ہیں۔انہوں نے کہاکہ 1970 کی دہائی میں قومیانے کی پالیسی اختیار کی گئی اور بیوروکریسی نے ملک کے تمام کاروباری اداروں کا کنٹرول سنبھال لیا، اس کے بعد قومی تحویل میں لیے گئے اثاثے تباہ ہوگئے، لیکن کسی حکومت نے ان طاقتور اور ناقابل احتساب عناصر سے سوال نہیں کیا۔خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ اگر قومیانے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگایا جائے تو یہ سانحہ سقوط ڈھاکہ سے بھی بڑا ثابت ہوگا، اس نقصان کو شمار کرنے کے لیے حساب میں موجود صفر بھی شاید کم پڑ جائیں، موجودہ حکومت نجکاری کا پروگرام آگے بڑھا رہی ہے اور وہ اس کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں۔ نواز شریف پہلے حکمران تھے جنہوں نے ملک میں قومیانے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کو واپس پلٹنے کی کامیاب کوشش کی، جبکہ شہید بے نظیر بھٹو نے بھی اس عمل کو مزید آگے بڑھایا، لیکن اس کے بعد یہ سلسلہ رک گیا، مستقل حکمران بیوروکریسی نے ان کوششوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں، تاہم وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے نجکاری پر توجہ دی جا رہی ہے اور وہ دعا کرتے ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو۔انہوں نے دعویٰ کیاکہ پاکستان کی بیوروکریسی سے وابستہ امیر افراد پرتگال، کینیڈا، امریکہ، برطانیہ اور پاکستان میں موجود ہیں اور یہ لوگ سیاست دانوں کی دوراندیشی سے محرومی کا براہ راست فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔وزیر دفاع نے ایک سابق گورنر جنرل سے متعلق واقعہ بیان کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ گورنر جنرل کو بعد میں فالج کا سامنا کرنا پڑا، اس کے بعد جب سیاستدان ان سے ملاقات کے لیے جاتے تو وہ انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کرتے، تاہم سیاست دان ان کی بات سمجھ نہیں پاتے تھے۔ گورنر جنرل کے ساتھ موجود ان کی انگریز سیکریٹری ان الفاظ کا ترجمہ کرکے سیاست دانوں کو بتاتی تھیں کہ گورنر جنرل دراصل کیا کہہ رہے ہیں۔

Faisal Bukhari

Recent Posts

پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودیہ کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا وزیراعظم کی سعودی ائیرپورٹس پر حملوں کی شدید مذمت

پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی…

2 hours ago

مکہ معاہدہ خطے میں استحکام کی ضمانت سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا ترجمان پاک فوج

پاکستان نیوز پوائنٹ افواجِ پاکستان کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے…

2 hours ago

سعودی عرب پر حملے پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہیں ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان نیوز پوائنٹ ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ سعودی عرب…

3 hours ago

فیصل کریم کنڈی کا سہیل آفریدی کو مستعفی ہونے کا مشورہ لانگ مارچ پر تنقید

پاکستان نیوز پوائنٹ گورنر خیبرپختونخوا نے وزیراعلیٰ کو مستعفی ہونے کا مشورہ دے دیا. لانگ…

3 hours ago

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن 7 خوارج ہلاک

پاکستان نیوز پوائنٹ خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات…

3 hours ago

ٹرمپ کا وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان

پاکستان نیوز پوائنٹ امریکی صدر ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ امریکا 3…

3 hours ago