پاکستان نیوز پوائنٹ
وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے پیش نظر عوام پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ کم کرنے کے لیے خصوصی ریلیف اسکیم کا اعلان کردیا۔وزیراعظم نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پر پڑنے والے بوجھ کا حکومت کو مکمل احساس ہے، مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔شہباز شریف نے ریلیف اسکیم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ خصوصی ریلیف اسکیم کے تحت موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والوں کو پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف فراہم کیا جائے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ موٹرسائیکل، رکشہ اور چنگچی سمیت دو اور تین پہیوں والی سواریوں کے لیے ماہانہ 20 لیٹر پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف دیا جائے گا، جس سے انہیں ماہانہ 2 ہزار روپے تک فائدہ ہوگا۔ اسی طرح 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 30 لیٹر پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف فراہم کیا جائے گا یعنی انہیں ماہانہ 3 ہزار روپے تک کا فائدہ حاصل ہو گا۔وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد کی حدود میں خصوصی ریلیف اسکیم کا اطلاق آئندہ پیر اور منگل کی درمیانی شب سے کردیا جائے گا جبکہ پورے پاکستان بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں اس کا اطلاق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سے ہوگا۔شہباز شریف کے بیان کے مطابق خصوصی ریلیف اسکیم کے لیے رجسٹریشن کا عمل آج سے شروع کردیا گیا ہے، اسکیم کے طریقہ کار اور رجسٹریشن سے متعلق تفصیلات آگاہی مہم کے ذریعے عوام تک پہنچائی جائیں گی۔وزیراعظم نے موٹرسائیکل، رکشہ اور چھوٹی گاڑیوں سے متعلق معلومات کی فراہمی میں تعاون پر صوبائی حکومتوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا اثر بالخصوص موٹرسائیکل، رکشہ اور چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والے کم اور متوسط آمدنی والے طبقات کے سفری اخراجات پر پڑتا ہے، جس کے پیش نظر حکومت نے براہ راست پیٹرول ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہےملک میں اس وقت پیٹرول کی قیمت 375 روپے 82 پیسے فی لیٹر ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 403 روپے 32 پیسے فی لیٹر ہے، جس میں کل بروز پیر کو مزید رد وبدل کیا جائے گا۔پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عموماً عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، درآمدی لاگت، پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز و اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ حکومت عام طور پر ہر پندرہ روز بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی ہے۔عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہونے کی صورت میں پاکستان کے درآمدی بل پر دباؤ بڑھتا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتی ہیں، اس کے برعکس عالمی قیمتوں میں کمی یا روپے کی قدر میں بہتری کی صورت میں قیمتوں میں کمی کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیاں براہِ راست مقامی قیمتوں اور بالواسطہ طور پر ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریات زندگی کے اخراجات کو متاثر کرتی ہیں۔اسی تناظر میں وزیراعظم کی جانب سے 800 سی سی تک کی گاڑیوں، موٹرسائیکلوں، رکشوں اور چنگچی کے لیے فی لیٹر 100 روپے ریلیف دینے کا اعلان کم آمدنی اور روزمرہ سفر کے لیے ان گاڑیوں پر انحصار کرنے والے شہریوں کے لیے فوری ریلیف دینے کی کوشش ہے
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے…
پاکستان نیوز پوائنٹ آئی ایم ایف مشن کی اگلی قسط کے اقتصادی جائزے پر مذاکرات…
پاکستان نیوز پوائنٹ پاکستان تحریک انصاف میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے، خیبرپختونخوا حکومت…
پاکستان نیوز پوائنٹ سعودی جنگی طیاروں نے گزشتہ دو دنوں کے دوران انصار اللہ المعروف…
پاکستان نیوز پوائنٹ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران سعودی عرب…
پاکستان نیوز پوائنٹ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو…