اردو نیوز اپڈیٹس

گلگت بلتستان انتخابات پیپلزپارٹی 9 سیٹیں جیت کر سرفہرست

پاکستان نیوز پوائنٹ
گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر ہونے والے عام انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے، جس میں اب تک پاکستان پیپلزپارٹی نے سب سے زیادہ 9 نشستوں پر میدان مار لیا ہے، جس کے بعد پیپلز پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے جب کہ آزاد امیدوار 7 اور مسلم لیگ (ن) 4 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے اور مجلس وحدت المسلمین کے حصے میں بھی ایک نشست آئی ہے۔اتوار کو ہونے والے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے لیے مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر صبح سے ہی ووٹرز کا رش رہا اور لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے رہے جب کہ پولنگ بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہی۔ پولنگ کے بعد غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے جب کہ آج نیوز تمام 24 حلقوں سے موصول ہونے والے نتائج کو سب سے پہلے اپنے ناظرین سے شیئر کررہا ہے۔گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات میں اب تک 24 میں سے 21 نشستوں کے مکمل غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج سامنے آگئے ہیں جب کہ صرف تین حلقوں کے نتائج آنا باقی ہیں. جس کے بعد صورت حال مزید واضح ہوجائے گی۔غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی اب تک 9 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے سب سے آگے ہے۔ اس سیاسی مقابلے میں آزاد امیدوار بھی بھرپور طریقے سے سامنے آئے ہیں اور وہ 7 نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔ اسی طرح پاکستان مسلم لیگ (ن) اب تک 4 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی ہے جب کہ مجلس وحدت مسلمین یعنی ایم ڈبلیو ایم کو ایک نشست پر کامیابی ملی ہے۔گلگت بلتستان اسمبلی کے حلقہ جی بی اے 1،4،5،7،9،10،11،12،19 پر پیپلزپارٹی کامیاب ہوئی جب کہ جی بی اے 3،6،15،16،21،23،24 پرآزادامیدوارکامیاب ہوئے۔ اس کے علاوہ جی بی اے 2،18،20،22 پر ن لیگ اور جی بی اے 8 پر ایم ڈبلیو ایم جیتی ہے۔مختلف حلقوں کے موصول ہونے والے مکمل پولنگ اسٹیشنز کے نتائج پر نظر ڈالیں تو حلقہ جی بی اے ون گلگت کے تمام 80 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امجد حسین 10 ہزار 594 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔حلقہ جی بی اے 2 گلگت کے تمام 73 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حفیظ الرحمان نے 13 ہزار 433 ووٹوں کے ساتھ میدان مارا۔حلقہ جی بی اے 3 گلگت کے تمام 82 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار سہیل عباس 7 ہزار 877 کامیاب ہوئے۔حلقہ جی بی اے 4 نگر کے تمام 60 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار محمد علی اختر نے 7 ہزار 654 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔حلقہ جی بی اے 5 نگر کے تمام 32 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ذولفقار علی مراد نے 3 ہزار 705 ووٹ لے کر اپنی جیت یقینی بنائی۔حلقہ جی بی اے 6 ہنزہ کے تمام 89 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار نیک نام کریم 6 ہزار 390 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے۔حلقہ جی بی اے 7 اسکردو کے تمام 31 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سید توقیر مہدی شاہ نے 4 ہزار 337 ووٹ حاصل کرکے میدان مارا۔حلقہ جی بی اے 8 اسکردو کے تمام 57 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے محمد کاظم میثم 10 ہزار 594 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔حلقہ جی بی اے 9 اسکردو کے تمام 56 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے حاجی فدا ناشاد 6 ہزار 270 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے۔حلقہ جی بی اے 10 اسکردو کے تمام 50 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے ہی امید وار راجہ ناصرعبداللہ نے 5 ہزار 680 ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔حلقہ جی بی اے 11 کھرمنگ کے تمام 43 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امید وار اقبال حسن نے 5 ہزار 944 ووٹ لے کر کامیابی اپنے نام کی۔حلقہ جی بی اے 12 شگر کے تمام 71 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے عمران ندیم 12 ہزار 944 ووٹ لے کر واضح اکثریت سے جیتے۔حلقہ جی بی اے 15 دیامر کے تمام 49 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار دلپزیر ترنگفہ نے 5 ہزار 145 ووٹوں کے ساتھ بازی ماری۔حلقہ جی بی اے 16 دیامر کے تمام 59 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار امام ملک نے 6 ہزار 320 ووٹ لے کر میدان مارا۔حلقہ جی بی اے 18 دیامر کے تمام 26 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کفایت الرحمان 5 ہزار 521 ووٹ حاصل کرکے کامیاب قرار پائے۔حلقہ جی بی اے 19 غذر کے تمام 78 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار جلال علی شاہ نے 9 ہزار 613 ووٹ لے کر میدان مارا۔حلقہ جی بی اے 20 غذر کے تمام 65 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مسلم لیگ ن کے امیدوار عبد الجہان 6 ہزار 917 ووٹوں کے ساتھ کامیاب ہوئے۔حلقہ جی بی اے 21 غذر کے تمام 60 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار امان علی عامر 9 ہزار 938 ووٹ حاصل کرکے فاتح قرار پائے۔حلقہ جی بی اے 22 گھانچے کے تمام 57 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد ابراہیم ثنائی 10 ہزار 136 لے کر واضح اکثریت سے جیتے۔حلقہ جی بی اے 23 گھانچے کے تمام 48 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار حاجی انور علی 12 ہزار 117 ووٹ لے کر بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔حلقہ جی بی اے 24 گھانچے کے تمام 46 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار ڈاکٹر اسد شفیق نے 7 ہزار 164 ووٹ لے کر میدان مار لیا۔باقی ماندہ حلقوں کے مکمل نتائج آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے لیے کون کس سے اتحاد کرتا ہے۔یاد رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کل 33 نشستوں پر مشتمل ہے جب کہ 24 براہ راست منتخب ارکان، 6 خواتین نشستیں، 3 نشستیں ٹیکنو کریٹس کے لیے مختص ہیں۔حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 17 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ان انتخابات میں سب سے زیادہ یعنی 23 امیدوار کھڑے کیے ہیں، اس کے بعد دوسرے نمبر پر مسلم لیگ ن ہے جس کے 22 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ 19 آزاد امیدوار بھی انتخابی دوڑ میں شامل ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی نے 15، پاکستان نظریاتی پارٹی نے 10 حلقوں سے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور اسلامی تحریک پاکستان کے 9، 9 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جب کہ مجلس وحدت مسلمین کے 7 امیدوار میدان میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6،6 امیدوار بھی انتخابی دوڑ میں شامل ہیں جب کہ عوامی ورکرز پارٹی کے 4 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔24 حلقوں میں 396 امیدوار میدان میں ہیں. انتخابات میں مجموعی طور پر 266 آزاد امیدوار بھی کھڑے ہیں، اس کے علاوہ 8 خواتین امیدوار بھی مختلف حلقوں میں انتخابی دوڑ کا حصہ ہیں۔الیکشن کے لیے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 9 لاکھ 58 ہزار480 ہے، جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 3 ہزار 772 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 54 ہزار 708 ہے۔دیامر اور اسکردو سیاسی طور پر انتہائی اہم اضلاع ہیں دونوں اضلاع میں چار، چار انتخابی حلقے ہیں۔ گلگت، غذر اور گانچھے میں تین، تین انتخابی حلقے جب کہ نگر اور استور کے حصے میں دو، دو انتخابی حلقے ہیں۔ اس کے علاوہ ہنزہ، شگر اور کھرمنگ چھوٹے اضلاع ہیں اور ان میں سے ہر ایک ضلع میں ایک، ایک انتخابی حلقہ ہے۔گلگت بلتستان اسمبلی کے یہ چوتھے عام انتخابات ہیں. جنہیں خطے میں سیاسی استحکام اور عوامی نمائندگی کے تعین کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے

Faisal Bukhari

Recent Posts

صدر مملکت آصف زرداری سے گورنر پنجاب کی اہم ملاقات پنجاب کے انتظامی امورپر تبادلہ خیال

پاکستان نیوز پوائنٹ صدر مملکت آصف علی زرداری سے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان…

21 hours ago

احتجاج اور دھرنوں سے معیشت کو یومیہ 120 ارب روپے کا نقصان ہوگا وزیر خزانہ

پاکستان نیوز پوائنٹ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان اب معاشی استحکام…

21 hours ago

اسحاق ڈار کا فیول اسکیم کا جائزہ ایس ایم ایس کے ذریعے فیول ٹوکنز کے استعمال کی منظوری

پاکستان نیوز پوائنٹ نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار نے ہر فعال فیول اسٹیشن کو نظام…

22 hours ago

حوثیوں کےحملے پاکستان کیساتھ مکہ معاہدےکے تحت سعودی عرب کی عسکری ضروریات کا جائزہ لیں گے ترک وزیر خارجہ

پاکستان نیوز پوائنٹ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہےکہ یمنی حوثیوں کے جاری…

22 hours ago

اطالوی وزیرِاعظم کا اسکولوں میں نقاب اور برقع پہننے پر پابندی لگانے کا اعلان

پاکستان نیوز پوائنٹ اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے…

22 hours ago

یورپی ملک میں خفیہ میٹنگ امریکا دوبارہ حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ایران کا دعویٰ

پاکستان نیوز پوائنٹ ایران نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اُس پر دوبارہ…

22 hours ago