پاکستان نیوز پوائنٹ
آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے وفاقی حکومت نے اہم بل متعارف کروا دیا ہے. جس میں متعدد اہم تبدیلیاں اور نئے نکات شامل ہیں۔ ترمیمی بل کی تفصیلات کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر وائس چیف آف آرمی اسٹاف اور ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف کی تقرری کا عمل نئے قوانین کے تحت کیا جائے گا۔ بل کے متن میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ وائس آرمی چیف اپنے تمام اختیارات اور فرائض آرمی چیف کی ہدایات کے مطابق انجام دیں گے۔اس تقرری کی سفارش چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) کرے گا اور اس کی منظوری وفاقی حکومت دے گی۔ آرمی چیف کی تقرری چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر کی جائے گی، جو کہ اس بات کی ضمانت دے گا کہ یہ عمل مزید شفاف اور مربوط ہو۔ بل کے مطابق، چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 سے ختم تصور کیا جائے گا۔
وزیراعظم کی سفارش پر آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی مشاورت سے کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کو تین سال کے لیے تقرری دی جائے گی۔کمانڈر کی دوبارہ تعیناتی یا توسیع وزیراعظم کی سفارش سے ممکن ہوگی، اور اس فیصلہ کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ پر ریٹائرمنٹ کی عمر یا سروس کی معیاد کا قانون لاگو نہیں ہوگا، اور وہ اپنی خدمات پاکستان آرمی میں جاری رکھیں گے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے آرمی چیف (چیف آف ڈیفنس فورسز) کی ذمہ داریوں اور فرائض کا تعین کیا جائے گا. لیکن ملٹی ڈومین ایریاز میں ان کی ذمہ داریوں کو محدود نہیں کیا جا سکے گا۔ اگر کسی جنرل کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی جاتی ہے تو وہ اس کے تحت اپنے فرائض ذیلی سیکشن دو کے تحت انجام دیں گے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کی مدت ان کے نوٹیفکیشن کے دن سے شروع ہو گی اور اس کا عہدہ آرمی چیف کے طور پر کام کرے گا۔
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم محمد شہباز شریف سعودی ولی عہد و وزیرِ اعظم شیخ محمد…
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیر داخلہ محسن نقوی سے چین اور ترکیہ سے تربیت حاصل کرنے…
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صاف پینے کے پانی کی بوتلوں…
پاکستان نیوز پوائنٹ ترقی کے منتظر سینکڑوں وفاقی افسران کیلئے اچھی خبر آ گئی، وفاقی…
پاکستان نیوز پوائنٹ ملک بھر میں فی تولہ سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔آل…
پاکستان نیوز پوائنٹ سیکیورٹی فورسز نے آپریشن ردالفتنہ کے تحت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں…