پاکستان نیوز پوائنٹ
اسرائیل کی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کی جانب امداد لے کر آنے والے صمود فلوٹیلا میں شامل زیرِ حراست تمام غیر ملکی کارکنوں کو ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ یہ امدادی کارکن کشتیوں سے حراست میں لے کر اسرائیل منتقل کیے گئے تھے۔ تاہم ایک اسرائیلی شہریت رکھنے والے شریک کو عدالت میں پیشی کے بعد حراست میں رکھا گیا ہے۔خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) اور ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق اسرائیل نے غزہ کی بحری ناکا بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے فلوٹیلا کے سیکڑوں کارکنوں کو رہا کرکے ملک بدر کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔اسرائیل میں قائم قانونی حقوق کی تنظیم لیگل سینٹر فار عرب مائنارٹی رائٹس اِن اسرائیل (عدالہ) کے مطابق تقریباً 430 غیر ملکی کارکنوں میں سے بیشتر کو جنوبی شہر ایلات کے قریب ایک سویلین ایئرپورٹ منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں اپنے ممالک واپس بھیجا گیا۔تنظیم کا کہنا ہے کہ اس دوران ایک فلوٹیلا میں شریک زوہر ریگِیو کو حراست میں رکھا گیا ہے، جو اسرائیلی شہریت رکھتی ہیں۔ ان کے خلاف اشکلون مجسٹریٹ کورٹ میں سماعت جاری ہے۔عدالہ کے مطابق زوہر ریگِیو پر بے بنیاد اور متضاد الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں غیر قانونی داخلہ، غیر قانونی قیام اور غزہ کی ناکا بندی توڑنے کی کوشش شامل ہیں۔ قانونی تنظیم نے ان الزامات کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریگِیو کو بین الاقوامی پانیوں سے زبردستی حراست میں لے کر اسرائیلی حدود میں لایا گیا، جو ان کی مرضی کے خلاف تھا۔دوسری جانب اسی معاملے پر اسرائیلی وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ تمام غیر ملکی کارکنوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔ مزید رپورٹس کے مطابق بعض یورپی ممالک نے فلوٹیلا کارکنوں کے ساتھ سلوک پر اسرائیلی وزیر کے رویے پر تنقید کی ہے اور اٹلی نے یورپی یونین سے پابندیوں کا مطالبہ بھی کیا ہے۔یاد رہے کہ بدھ کے روز صمود فوٹیلا سے وابستہ کارکنان کی اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں حراست اور ناروا سلوک کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد صورتِ حال حساس ہو گئی تھی جب اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے عبرانی زبان میں کیپشن لکھا کہ ’ہم دہشت گردی کے حامیوں کے ساتھ اسی طرح پیش آتے ہیں۔‘اسرائیلی وزیر کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ویڈیو شیئر کیے جانے کے بعد معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا۔ اس واقعے کے بعد اٹلی، ترکیہ، کینیڈا، نیدرلینڈز، جرمنی، اسپین، بیلجیئم، فرانس، آئرلینڈ، نیدرلینڈ سمیت دیگر ممالک اور یورپی یونین نے اسے انسانی وقار کے منافی قرار دیتے ہوئے فوری رہائی اور باضابطہ وضاحت کا مطالبہ کیا تھا۔ان ممالک نے سخت مؤقف اختیارکیا کہ اسرائیل کو تمام غیر ملکی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے اور ان کے ساتھ باعزت رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
پاکستان نیوز پوائنٹ پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ…
پاکستان نیوز پوائنٹ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ…
پاکستان نیوز پوائنٹ ایران اور امریکا کے درمیان تعطل کا شکار امن مذاکرات کو دوبارہ…
پاکستان نیوز پوائنٹ آئی ایم ایف نے پاکستان سے ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ٹیکس وصولی…
پاکستان نیوز پوائنٹ برطانوی وزیر خزانہ ریچل ریوز نے کہا کہ ایران جنگ عالمی معیشت…
پاکستان نیوز پوائنٹ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے افزودہ یورینیم ملک سے باہر…