اردو نیوز اپڈیٹس

ایشیا کے امیر ترین شخص کو چین میں کرپشن پر عمر قید کی سزا

پاکستان نیوز پوائنٹ
چین کی معروف پراپرٹی کمپنی ایورگرینڈ کے بانی ہوئی کایان کو چینی عدالت نے عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ دنیا کی سب سے زیادہ قرض میں ڈوبی پراپرٹی کمپنیوں میں شمار ہونے والی ایورگرینڈ کے بانی کے خلاف یہ فیصلہ کمپنی کے بحران کے تقریباً پانچ سال بعد سامنے آیا ہے۔ کمپنی کے دیوالیہ ہونے سے چین کی معیشت، پراپرٹی مارکیٹ اور مالیاتی نظام کو شدید دھچکا لگا تھا7 سالہ ہوئی کایان کبھی ایشیا کے امیر ترین شخص تھے۔ وہ 1996 میں ایورگرینڈ کے قیام کے بعد تیزی سے چین کے پراپرٹی کاروبار میں نمایاں مقام تک پہنچے۔ کمپنی نے بڑے پیمانے پر قرض لے کر ہاؤسنگ منصوبوں کو وسعت دی اور ایک وقت میں چین کی سب سے بڑی پراپرٹی ڈویلپر بن گئی۔2017 میں فوربز کے مطابق ہوئی کایان کی دولت تقریباً 45.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی لیکن کمپنی کی تیز رفتار توسیع کے لیے حاصل کیے گئے بھاری قرضے بعد میں اس کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن گئے۔رائٹرز کے مطابق ایورگرینڈ تقریباً 300 ارب ڈالر کے مجموعی واجبات میں سے زیادہ تر کی ادائیگی کرنے میں ناکام رہی۔ عدالت نے ہوئی کایان کو متعدد جرائم میں سزا سنائی ہے۔ ان میں کمپنی کے فنڈز کا غلط استعمال، فنڈز اکٹھے کرنے میں فراڈ، عوام سے غیر قانونی طور پر رقوم جمع کرنا، غیر قانونی قرضوں کی توسیع، سیکیورٹیز کے اجرا میں دھوکا دہی اور رشوت شامل ہیں۔کایان نے رواں سال اپریل میں ان آٹھ الزامات کا اعتراف بھی کیا تھا۔ عدالت نے نہ صرف ہوئی کایان کو عمر قید کی سزا سنائی بلکہ ان کی تمام ذاتی جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔عدالت کے مطابق ایورگرینڈ، اس کی ذیلی کمپنی ہینگڈا ریئل اسٹیٹ اور ہوئی کایان کی مجرمانہ سرگرمیوں میں انتہائی بڑی رقوم شامل تھیں، جن کے نتیجے میں بہت زیادہ معاشی نقصان ہوا اور معاشرے پر بھی اس کے سنگین اثرات پڑے۔اس مقدمے میں صرف ایورگرینڈ کے بانی ہی کو سزا نہیں ہوئی بلکہ عدالت نے کمپنی پر 8.82 ارب یوآن، یعنی تقریباً 1.31 ارب ڈالرکا جرمانہ بھی عائد کیا ہے، جبکہ اس کی مرکزی ذیلی کمپنی ہینگڈا پر 7 ارب یوآن کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ کمپنی سے وابستہ پانچ دیگر اعلیٰ عہدیداروں کو بھی 6 سے 18 سال تک قید اور جرمانوں کی سزائیں سنائی گئیں۔ سرکاری چینی میڈیا کے مطابق ہوئی کایان کے علاوہ ایورگرینڈ سے منسلک مجموعی طور پر 56 افراد کو جمعرات کے روز مختلف سزائیں دی گئیں۔چینی حکام نے انہیں 2023 میں ایورگرینڈ کے ڈیفالٹ کے بعد حراست میں لیا تھا اور اس کے بعد وہ عوامی سطح پر نظر نہیں آئے تھے۔ اب عدالت کی کارروائی کے دوران جاری کی گئی تصاویرمیں انہیں دیکھاگیا ہے۔لیکن یہاں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہوئی کایان کو عمر قید کی سزا تو ہوگئی لیکن جن لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی ایورگرینڈ کے بحران کی نظر ہوگئی ان کا کیا ہوگا؟چینی سوشل میڈیا پر ایورگرینڈ کے بعض متاثرہ گھر مالکان نے فیصلے کے بعد سوال اٹھایا کہ ان کی رقم واپس کون کرے گا۔ بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ کمپنی کے بحران کی قیمت عام شہریوں نے ادا کی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت کا فیصلہ قانونی کارروائی کو آگے بڑھاتا ہے.لیکن متاثرہ افراد کے لیے مالی نقصان کی تلافی کا مسئلہ اب بھی موجود ہے۔ایورگرینڈ کے اثاثوں کی فروخت اور قرض خواہوں کو رقم واپس کرنے کا عمل بھی انتہائی سست رفتاری سے جاری ہے۔ ہانگ کانگ کی ایک عدالت نے 2024 میں کمپنی کو ختم کرنے یا لیکویڈیٹ کرنے کا حکم دیا تھا، جبکہ ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج نے گزشتہ سال ایورگرینڈ کے حصص کو فہرست سے خارج کر دیا تھا۔کمپنی کے اثاثے فروخت کرکے قرض خواہوں کی رقم واپس دلانے والے مقرر کردہ ماہرین (لیکویڈیٹرز) کے مطابق گزشتہ سال اگست تک تقریباً 25.5 کروڑ ڈالر مالیت کے اثاثے فروخت کیے جا سکے تھے، جبکہ قرض خواہوں کے دعوے تقریباً 45 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے۔ اس فرق سے اندازہ ہوتا ہے کہ کمپنی کے قرضوں کی وصولی کا عمل کتنا مشکل اور طویل ہے۔چین سے باہر بھی ہوئی کایان کے اثاثوں سے متعلق قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔ لیکویڈیٹرز ہوئی کایان اور ان کی سابق اہلیہ کے بیرون ملک موجود اثاثوں کو منجمد کرانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ بانی اور کمپنی کے سابق اعلیٰ عہدیداروں کو دیے گئے تقریباً 6 ارب ڈالر کے منافع اور معاوضوں میں سے رقم واپس حاصل کی جا سکے۔وئی کایان کی کہانی چین کی پراپرٹی مارکیٹ کے عروج اور زوال کی ایک بہت نمایاں مثال بن چکی ہے۔ ایک دیہی علاقے میں پرورش پانے والے سابق اسٹیل ٹیکنیشن نے معمولی حالات سے آغاز کیا اور چند دہائیوں میں چین کے سب سے طاقتور کاروباری افراد میں شامل ہوگئے۔ تاہم ضرورت سے زیادہ قرض، پراپرٹی مارکیٹ کی کمزوری اور کمپنی کے مالی مسائل نے آخرکار ان کے کاروباری سلطنت کو شدید بحران میں ڈال دیا2024 میں چین کے سیکیورٹیز ریگولیٹر نے بھی ہوئی کایان پر تقریباً 66 لاکھ ڈالر جرمانہ عائد کیا تھا اور انہیں تاحیات سیکیورٹیز مارکیٹ میں داخلے سے روک دیا تھا۔ ریگولیٹر کے مطابق ایورگرینڈ کی اہم ذیلی کمپنی نے مالی نتائج کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور سیکیورٹیز سے متعلق فراڈ کیا تھا۔ہوئی کایان کو سنائی گئی عمر قید ایورگرینڈ کے طویل بحران میں ایک اہم قانونی مرحلہ ہے.لیکن کمپنی کے قرض خواہوں، خریداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے اصل سوال اب بھی یہی ہے کہ ان کی کتنی رقم واپس مل سکے گی اور اس میں مزید کتنا وقت لگے گا۔ایورگرینڈ کا معاملہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ بڑے پیمانے پر قرض لے کر تیزی سے پھیلنے والے کاروبار کا بحران صرف ایک کمپنی تک محدود نہیں رہتا .بلکہ اس کے اثرات عام شہریوں، مالیاتی اداروں اور پوری معیشت تک پہنچتے ہیں

Faisal Bukhari

Recent Posts

وزیراعظم سے شامی وزیر خارجہ کی ملاقات دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

پاکستان نیوز پوائنٹ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ گولان کی پہاڑیوں کے…

4 hours ago

نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم اور ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور

پاکستان نیوز پوائنٹ وفاقی کابینہ کے بعد قومی اسمبلی میں بھی ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026…

4 hours ago

ملکی قرضوں پر 5 برس کے دوران 32 ہزار ارب روپے سود ادا کیا گیا وزارت خزانہ

پاکستان نیوز پوائنٹ وزارت خزانہ نے ملکی قرضوں کی تفصیلات پیش کردیں. دسمبر 2025ء تک…

4 hours ago

وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کا ایک اور فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

پاکستان نیوز پوائنٹ وفاقی آئینی عدالت نے عوامی مقاصد کیلئے لینڈ ایکوزیشن پر بڑا فیصلہ…

4 hours ago

ٹرمپ کی ایران کو اقتصادی جنگ کی دھمکی عالمی منڈی میں پیٹرول مزید مہنگا ہوگیا

پاکستان نیوز پوائنٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف مزید سخت اقتصادی پابندیوں…

4 hours ago

شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کا 6 سال بعد بچوں سمیت برطانیہ واپسی کا فیصلہ

پاکستان نیوز پوائنٹ شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل نے تقریباً 6 سال…

4 hours ago