پاکستان نیوز پوائنٹ
سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق کیس کا فیصلہ جاری کردیا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے 5 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا جس میں کہا گیا ہےکہ درخواست گزار پولیس سروس کے سینئر افسر تھے جو 3 بار ترقی سے محروم رہے حالانکہ ان کی 2013 سے 2018 تک تمام کارکردگی رپورٹس بہترین تھیں۔ عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ وہ درخواست گزار کا کیس 2 ماہ میں میرٹ پر دوبارہ سنے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ہر سرکاری ملازم کو پرفارمنس پروموشن کے لیے زیرِ غور لایا جانا اس کا بنیادی حق ہے اور ترقی کے اہل افسر کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پروموشن دی جا سکتی ہے۔عدالت نے ہائی پاورڈ سلیکشن پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بورڈ منٹس میں منفی ریمارکس بغیر ثبوت کے شامل کیے گئے اور درخواست گزار کی ساکھ پر کوئی الزام بھی ثابت نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ نے تمام سرکاری اداروں کو ہدایت کی کہ ترقی سے متعلق فیصلے شفاف اور بروقت کیے جائیں کیونکہ ریٹائرڈ افسران کو دیر سے انصاف دینا غیر منصفانہ ہے۔
پاکستان نیوز پوائنٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل…
پاکستان نیوز پوائنٹ پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کا اپنا…
پاکستان نیوز پوائنٹ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے گذشتہ روز…
پاکستان نیوز پوائنٹ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں پی ایم اے لانگ کورس اور ٹیکنیکل…
پاکستان نیوز پوائنٹ ملک میں سونے کے نرخ ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں۔ فی…
پاکستان نیوز پوائنٹ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اثرات سامنے…