پاکستان نیوز پوائنٹ
مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع میں شدت کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی جس کے بعد توانائی سے متعلق مہنگائی کے خدشات بڑھ گئے۔عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کے روز نمایاں اضافہ دیکھا گیا، برینٹ خام تیل کی قیمت 2.3 فیصد تک بڑھ کر 100.19 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی جو 24 جولائی 2026 کے بعد پہلی مرتبہ 100 ڈالر کی سطح سے تجاوز ہے۔امریکی خام تیل کی قیمت 1.70 فیصد اضافے سے 94.61 ڈالر فی بیرل ہو گئی جبکہ مربان خام تیل کی قیمت 5.87 فیصد اضافے سے 117.30 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔رائٹرز کے مطابق ایران کی جانب سے اردن میں موجود امریکی اڈے پر بیلسٹک میزائل داغنے کے بیان اور دونوں جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے دعووں کے بعد مشرق وسطیٰ کے تنازع میں مزید شدت کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عالمی اسٹاک مارکیٹس بھی دباؤ کا شکار ہوگئیں۔ سرمایہ کاروں میں یہ خدشات بڑھ گئے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کو دوبارہ بڑھا سکتا ہے. جس کے نتیجے میں مرکزی بینک شرح سود زیادہ عرصے تک بلند رکھنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔یورپ میں کاروباری سرگرمیوں کے دوران پین یورپی اسٹاکس 600 انڈیکس 0.7 فیصد گر گیا۔ صنعتی اور بینکنگ شعبے کے شیئرز نمایاں طور پر دباؤ میں رہے۔امریکی اسٹاک مارکیٹ کے اہم انڈیکسز کے فیوچرز میں بھی زیادہ تبدیلی نہیں دیکھی گئی جبکہ منگل کو امریکی اسٹاک انڈیکس میں 0.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عالمی سرمایہ کاروں کی نظریں مرکزی بینکوں کے آئندہ فیصلوں پر مرکوز ہوگئی ہیں۔ یورپی مرکزی بینک کی پالیسی کا فیصلہ جمعرات کو متوقع ہے جبکہ مارکیٹ میں مہنگائی کے دباؤ کے باعث شرح سود میں اضافے کی توقع کی جارہی ہے۔یورو کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا اور یہ ایک ہفتے سے زائد کی بلند ترین سطح تک بھی پہنچی۔ بعدازاں یورو 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 1.16325 ڈالر پر موجود رہا۔جاپانی ین بھی ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ہوا اور منگل کو چھ ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔ تاجروں کی جانب سے ین میں شارٹ پوزیشنز ختم کرنے کے باعث جاپانی کرنسی کو تقویت ملی۔جاپانی ین تقریباً 0.2 فیصد مضبوط ہوکر 153.675 فی ڈالر پر پہنچ گیا۔ گزشتہ پانچ کاروباری سیشنز میں ین کی قدر میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔مارکیٹ میں یہ توقع بھی بڑھ رہی ہے کہ بینک آف جاپان شرح سود میں اضافے کا عمل تیز کرسکتا ہے جبکہ جاپانی سرمایہ کی ملک واپسی میں بھی تیزی آسکتی ہے۔برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں زیادہ تبدیلی نہیں ہوئی اور یہ 1.3543 ڈالر پر موجود رہا۔ بینک آف انگلینڈ کی جانب سے آئندہ ہفتے شرح سود سے متعلق فیصلہ متوقع ہے، جبکہ ماہرین رواں سال کے باقی عرصے میں شرح سود برقرار رہنے کی پیش گوئی کررہے ہیں۔عالمی حصص بازاروں پر حالیہ ہفتوں میں مہنگائی کے خدشات اثرانداز ہوئے ہیں اور بانڈز کی پیداوار میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے کیونکہ سرمایہ کار مرکزی بینکوں کی جانب سے مزید سخت مالیاتی پالیسی کے امکانات کو مدنظر رکھ رہے ہیں۔اس ہفتے امریکا میں پروڈیوسر اور صارفین کی قیمتوں سے متعلق اعداد و شمار جاری کیے جائیں گے جنہیں مرکزی بینک کی آئندہ پالیسی کے لیے اہم قرار دیا جارہا ہے۔پالیسی ساز یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ آیا مہنگائی کا دباؤ مسلسل کم ہورہا ہے یا توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اس رجحان کو متاثر کرسکتی ہیں۔
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بینکوں اور مالیاتی اداروں پر زور دیا…
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم شہباز شریف نے نئی آٹو پالیسی 2026-31 کی اصولی منظوری دیدی۔ذرائع…
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ یمن سے سعودی عرب…
پاکستان نیوز پوائنٹ پنجاب اسمبلی میں قرارداد کا نوٹس رکن پنجاب اسمبلی میاں اعجاز شفیع…
پاکستان نیوز پوائنٹ روسی صدر پیوٹن اور ٹرمپ کے درمیان منگل کو ایک گھنٹے تک…
پاکستان نیوز پوائنٹ برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کو غیر قانونی قرار…