پاکستان نیوز پوائنٹ
یمن میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل طاہر علی کے قافلے پر صوبہ الضالع میں حملے اور گھیراؤ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ابتدائی رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد وزیر دفاع کے تمام محافظوں کو قابو کرکے حراست میں لے لیا گیا جبکہ وزیر دفاع کو بھی محصور کردیا گیا ہے اور ان کے ممکنہ اغوا یا یرغمال بنائے جانے سے متعلق متضاد اطلاعات گردش کر رہی ہیں تاہم واقعے کی حتمی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔حوثی باغیوں کے متوازی وزیر دفاع محمد ناصر کے بارے میں بھی اطلاعات ہیں کہ گزشتہ روز صوبہ تعز کے مغربی علاقے البرح میں یمنی فوج نے ان کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا جہاں متعدد حوثی کمانڈر ہلاک ہوئے۔واضح رہے کہ وزیر دفاع کی موت یا زندہ بچنے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کے یومِ فتح کی چھٹی سالگرہ پر…
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ صوبوں کی تجویز پچھلے…
پاکستان نیوز پوائنٹ خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے…
پاکستان نیوز پوائنٹ ڈی جی آئی ایس پی آر نے لاہور کی مختلف جامعات کا…
پاکستان نیوز پوائنٹ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں اس…
پاکستان نیوز پوائنٹ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے امریکا کو…