پاکستان نیوز پوائنٹ
یمن میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل طاہر علی کے قافلے پر صوبہ الضالع میں حملے اور گھیراؤ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ابتدائی رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد وزیر دفاع کے تمام محافظوں کو قابو کرکے حراست میں لے لیا گیا جبکہ وزیر دفاع کو بھی محصور کردیا گیا ہے اور ان کے ممکنہ اغوا یا یرغمال بنائے جانے سے متعلق متضاد اطلاعات گردش کر رہی ہیں تاہم واقعے کی حتمی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔حوثی باغیوں کے متوازی وزیر دفاع محمد ناصر کے بارے میں بھی اطلاعات ہیں کہ گزشتہ روز صوبہ تعز کے مغربی علاقے البرح میں یمنی فوج نے ان کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا جہاں متعدد حوثی کمانڈر ہلاک ہوئے۔واضح رہے کہ وزیر دفاع کی موت یا زندہ بچنے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
پاکستان نیوز پوائنٹ صدر مملکت آصف علی زرداری وطن واپسی کیلئے لندن سے روانہ ہوگئے،…
پاکستان نیوز پوائنٹ ذرائع کے مطابق آٹو پالیسی کا اعلان اگلے ہفتے آئی ایم ایف…
پاکستان نیوز پوائنٹ ترجمان دفترخارجہ نے کہا ہےکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دو…
پاکستان نیوز پوائنٹ سعودی عرب،پاکستان ، ترکیہ اور اردن سمیت 8 عرب و مسلم ممالک…
پاکستان نیوز پوائنٹ قطر کے حکام نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر حوثی حملوں…
پاکستان نیوز پوائنٹ ایران امریکی پابندیوں سے بچنے اور عالمی بینکاری نظام سے گریز کے…