اردو نیوز اپڈیٹس

تنخواہ دار طبقے پر بوجھ ڈالنے کی بجائے ٹیکس نیٹ میں اضافے پر زور دیا وزیر خزانہ

پاکستان نیوز پوائنٹ
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ تنخواہ دار طبقے پر بوجھ ڈالنے کی بجائے ٹیکس نیٹ میں اضافے پر زور دیا ہے، ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے ریٹیلرز کو نظام کا حصہ بنانے پر کام جاری ہے۔قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عظیم الدین زاہد اور خواجہ شیراز نے بجٹ کے اعداد و شمار سے متعلق اعتراض کیا، کاش یہ اعتراضات تحریک استحقاق کی بجائے ایوان میں بات کرتے،نیشنل اکاؤنٹس سے متعلق اعداد و شمار میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، معاشی اعشاریوں میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ ایران جنگ روک کر مخلص کردار ادا کیا، امریکہ ایران معاہدے سے ہمارا قومی وقار بلند ہوا، بجٹ بحث ہر تمام اراکین اسمبلی اور سینیٹ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ بعض تجاویز کو فنانس بل میں شامل کرنا ارادہ ہے، اس سال اکتالیس ارب ڈالر کے ترسیلات زر کا ہدف پورا کردیں گے، آئی ٹی ایکسپورٹ ساڑھے چار ارب ڈالر ہونے کی توقع ہے۔انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر بوجھ ڈالنے کی بجائے ٹیکس نیٹ میں اضافے پر زور دیا ہے، ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے ریٹیلرز کو نظام کا حصہ بنانے پر کام جاری ہے، ایف بی آر کی کارکردگی پر تنقید کی گئی،ہماری حکومت نے دو سالوں میں چودہ ارب ڈالر کے اضافی محصولات جمع کیے۔407 کھرب 41 ارب 55 کروڑ روپے سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئیں۔ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 259 کھرب 92 ارب 20 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔ ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد جبکہ غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 58 کھرب 36 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔ غیر ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 10 کھرب 71 ارب 39 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔سپریم کورٹ کے لیے 7 ارب 44 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وفاقی آئینی عدالت کے لیے 6 ارب 4 کروڑ روپے سے زائد جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے 2 ارب 36 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔ آڈٹ کے لیے 9 ارب 82 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔وفاقی محتسب کے لیے 2 ارب 12 کروڑ 35 لاکھ روپے سے زائد جبکہ وفاقی ٹیکس محتسب کے لیے 64 کروڑ 55 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ الیکشن کے لیے 10 ارب 57 کروڑ 75 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔قلیل مدتی بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے ایک کھرب 30 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔ گرانٹس اور متفرق اخراجات کے لیے 57 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔قومی اسمبلی کے لیے 7 ارب 96 کروڑ روپے جبکہ سینیٹ کے لیے 6 ارب 42 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ الاؤنسز، کہن سالی اور پنشن کے لیے 6 ارب 93 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔فارن مشنز کے لیے 50 کروڑ روپے جبکہ شعبہ قانون و انصاف کے لیے 53 کروڑ 94 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ صدر مملکت کے پبلک آفس کے ملازمین کے الاؤنسز کے لیے 96 کروڑ 37 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔صدر مملکت کے پرسنل آفس کے ملازمین کے الاؤنسز کے لیے ایک ارب 83 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں، جبکہ پاکستان پوسٹ کے لیے 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

Faisal Bukhari

Recent Posts

وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ ٹیکس چوری اسمگلنگ اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف مؤثر کارروائیاں تیز کرنے کی ضرورت ہے

پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ ٹیکس چوری، اسمگلنگ اور غیر قانونی…

17 hours ago

سعودی وزیر ماحولیات کا جی ایچ کیو راولپنڈی کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات

پاکستان نیوز پوائنٹ سعودی عرب کے وزیر ماحولیات، پانی و زراعت انجینئر عبدالرحمن عبدالمحسن الفدلی…

17 hours ago

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ نوجوان سوشل میڈیا اور پروپیگنڈے کے اثرات سے بچ کر بامعنی کردار ادا کریں

پاکستان نیوز پوائنٹ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ نوجوان سوشل میڈیا اور…

17 hours ago

پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

پاکستان نیوز پوائنٹ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق…

17 hours ago

عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتیں گراوٹ کا شکار

پاکستان نیوز پوائنٹ عالمی منڈی میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی…

17 hours ago

ملک میں بجلی کا شارٹ فال 4 ہزار میگا واٹ سے تجاوز کرگیا

پاکستان نیوز پوائنٹ ملک میں بجلی کا شارٹ فال بڑھنے سے لاہور سے پنجاب بھر…

17 hours ago