پاکستان نیوز پوائنٹ
یورپی یونین کے کلاؤڈ انفرااسٹرکچر پر ایک بڑے پیمانے کے سائبر حملے کے نتیجے میں 29 اداروں کا تقریباً 92 جی بی حساس ڈیٹا ہیکرز نے چوری کر لیا ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں نے یورپی کمیشن کے اہم سرکاری ریکارڈز اور صارفین کی ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کی۔ اس ڈیٹا میں اعلیٰ حکام کے نام، سرکاری ای میل ایڈریسز اور خفیہ نوعیت کی دستاویزات شامل ہیں۔یورپی یونین کی سائبر سیکیورٹی ٹیم نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہیکرز نے ایمازون ویب سروسز کے ایک کمزور اکاؤنٹ کو نشانہ بنایا۔ یہ اکاؤنٹ یورپی کمیشن کے مرکزی پلیٹ فارم “Europa.eu” سے منسلک تھا، جو متعدد سرکاری ویب سائٹس کو سہولت فراہم کرتا ہے۔حکام کے مطابق اس سائبر حملے سے کم از کم 29 یورپی ادارے براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا ڈیٹا لیک یورپی یونین کے اندرونی مواصلاتی نظام اور ڈیجیٹل سیکیورٹی ڈھانچے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ابتدائی تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ حملہ آوروں نے سپلائی چین اٹیک کی جدید تکنیک استعمال کی۔ ہیکرز نے پہلے ایک اوپن سورس سیکیورٹی ٹول میں نقب لگائی، وہاں سے خفیہ اے پی آئی کیز حاصل کیں اور پھر ان کے ذریعے محفوظ کلاؤڈ سسٹم تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔دوسری جانب معروف ہیکنگ گروپ “ShinyHunters” نے مبینہ طور پر اس ڈیٹا کو آن لائن لیک کر کے کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ یہ گروپ اس سے قبل بھی عالمی سطح پر متعدد کمپنیوں اور اداروں کے ڈیٹا لیک میں ملوث رہ چکا ہے۔واقعے کے بعد یورپی یونین نے فوری طور پر متاثرہ سسٹمز کو محفوظ بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کے نیٹ ورکس کو کڑی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آئندہ ایسے سائبر حملوں سے بچاؤ کے لیے سیکیورٹی نظام کو مزید کیسے مضبوط بنایا جائے۔
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے کہ…
پاکستان نیوز پوائنٹ وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا…
پاکستان نیوز پوائنٹ سندھ کابینہ نے مالی سال 27-2026 کے صوبائی بجٹ کی منظوری دے…
پاکستان نیوز پوائنٹ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں نائب پاکستانی وزیر…
پاکستان نیوز پوائنٹ ملک بھر میں بجلی کے بل کا نیا اور آسان فارمیٹ متعارف…
پاکستان نیوز پوائنٹ امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی اور قانون نافذ کرنے والے دیگر…